المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
الْحَدَثُ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں حدث (وضو ٹوٹ جانا) کا بیان۔
حدیث نمبر: 972
حدَّثَناه علي بن عيسى الحِيري، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا القَعْنبي، حدثنا عمر بن علي المُقدَّمي، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، عن النبي ﷺ قال: "إذا أحدَثَ أحدُكم وهو في الصلاة، فليَقُلْ بيدِه على وجهِه وليَنصرِفْ" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ بعض أصحاب هشام بن عُرْوة أَوقَفَه عنه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کا نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو وہ اپنے ہاتھ سے چہرے پر اشارہ کرے (ناک پکڑ لے) اور وہاں سے چلا جائے۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ ہشام بن عروہ کے بعض شاگردوں نے اسے موقوف کر دیا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو الحرشي.
درجۂ حدیث: (4) حدیث صحیح ہے اور محمد بن عمرو الحرشی کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1222)، وابن حبان (2238) من طريق عمر بن شبَّة، عن عمر بن علي المقدمي، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1222) اور ابن حبان (2238) نے عمر بن شبہ عن عمر بن علی المقدمی کی سند سے روایت کیا ہے۔ اس سے پہلے والی روایت دیکھیں۔
درجۂ حدیث: (4) حدیث صحیح ہے اور محمد بن عمرو الحرشی کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1222)، وابن حبان (2238) من طريق عمر بن شبَّة، عن عمر بن علي المقدمي، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1222) اور ابن حبان (2238) نے عمر بن شبہ عن عمر بن علی المقدمی کی سند سے روایت کیا ہے۔ اس سے پہلے والی روایت دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 972 سے ماخوذ ہے۔