حدیث نمبر: 96
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشيّ، حدثنا يحيى بن يحيى. وحدثنا محمد بن الحسن، حدثنا هارون بن يوسف، حدثنا ابن أبي عمر؛ قالوا: حدثنا سفيان - واللفظ للحُمَيدي - حدثنا الزُّهْري، حدثني عُروة بن الزُّبير قال: سمعت كُرْز بن علقمة يقول: سأل رجلٌ النبيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، هل للإسلام من مُنتهًى؟ فقال رسول الله ﷺ: "نَعَم، أيُّما أهلِ بيتٍ من العرب والعَجَم أراد اللهُ بهم خيرًا، أَدخلَ عليهم الإسلامَ، ثمَّ تقع الفتنُ كأنها الظُّلَلُ" (3). تابعه مَعمَرُ (4) بن راشد ويونسُ بن يزيد عن الزهري. أما حديث مَعمَر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 96 - لم يخرجاه لتفرد عروة عن كرز وهو صحابي_x000D_ أَمَا حَدِيثُ مَعْمَرٍ
حافظ طلحہ بابر

سیدنا کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، عرب یا عجم کا جو بھی گھرانہ ایسا ہو جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اس میں اسلام داخل کر دیتا ہے، پھر (اس کے بعد) ایسے فتنے واقع ہوں گے جیسے (سیاہ) بادلوں کے سائے ہوتے ہیں۔“
اس کی متابعت معمر بن راشد اور یونس بن یزید نے بھی کی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 96
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، الحميدي: هو عبد الله بن الزبير الحميدي، ويحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عيينة» [ترقيم الرساله 96] [ترقيم الشركة 96] [ترقيم العلميه 96]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير الحميدي، ويحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راویوں کی پہچان یہ ہے: الحمیدی سے مراد "عبداللہ بن زبیر حمیدی"، یحییٰ بن یحییٰ سے مراد "یحییٰ بن یحییٰ نیشاپوری"، ابن ابی عمر سے مراد "محمد بن یحییٰ بن ابی عمر عدنی" اور سفیان سے مراد "سفیان بن عیینہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 25/ (15917) عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی مسند 25/(15917) میں سفیان بن عیینہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: اس کے بعد آنے والی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔
(4) تحرَّف في (ب) إلى: محمد.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) میں یہاں لفظ کی تحریف ہوگئی ہے اور نام "محمد" لکھ دیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 96 سے ماخوذ ہے۔