حدیث نمبر: 949
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا إسماعيل - وهو ابن إبراهيم - حدثنا محمد بن إسحاق، حدثني عبد الواحد بن حمزة بن عبد الله بن الزُّبير، عن عبَّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول في بعض صلاته: "اللهمَّ حاسِبْني حِسابًا يسيرًا" فلما انصرف قلت: يا رسول الله، ما الحسابُ اليسير؟ قال: "يُنظَرُ في كتابِه ويُتَجاوَزُ له عنه، إنه مَن نُوقِشَ الحسابَ يومئذٍ يا عائشةُ هَلَكَ، فكلُّ ما يصيب المؤمنَ يُكفِّرُ الله عنه، حتى الشَّوكةُ تَشُوكُه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 936 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی کسی نماز میں یہ کہتے سنا: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» "(اے اللہ!) میرا حساب آسانی کے ساتھ فرمانا۔" جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آسان حساب کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ یہ کہ اس کے نامہ اعمال کو دیکھا جائے گا اور اس سے درگزر کر دیا جائے گا، کیونکہ اے عائشہ! جس کے حساب میں جرح و بحث کی گئی وہ اس دن ہلاک ہو گیا، پس مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے یہاں تک کہ اسے چبھنے والا کانٹا بھی۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 949
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح دون قصة دعائه ﷺ في الصلاة
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قصة دعائه ﷺ في الصلاة ، "اللهم حاسبني حسابًا يسيرًا"، فهي زيادة شاذة كما سبق بيانه برقم (191)» [ترقيم الرساله 949] [ترقيم الشركة 942] [ترقيم العلميه 936]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح دون قصة دعائه ﷺ في الصلاة بـ "اللهم حاسبني حسابًا يسيرًا"، فهي زيادة شاذة كما سبق بيانه برقم (191).
درجۂ حدیث: (1) "اللہم حاسبنی حساباً یسیراً" کی دعا کے قصے کے بغیر یہ حدیث صحیح ہے؛ یہ دعا والا حصہ "شاذ" ہے جیسا کہ پہلے نمبر (191) پر واضح کیا گیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 949 سے ماخوذ ہے۔