حدیث نمبر: 915
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عارِمُ بن الفضل، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا هلال بن خَبَّاب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قَنَتَ رسولُ الله ﷺ شهرًا متتابِعًا في الظهر والعصر والمغرب والعشاء والصبح، في دُبُر كل صلاة إذا قال: "سَمِعَ الله لمن حَمِدَه" صلَّى الركعةَ الآخِرَةَ، يدعو على حيٍّ من بني سُلَيم على رِعْل وذَكوان وعُصَيَّة، ويُؤمِّن مَن خلفَه، وكان أرسَلَ إليهم يَدعُوهم إلى الإسلام، فقتلوهم. قال عكرمة: هذا مِفتاح القُنوت (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 820 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک مسلسل ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں میں ہر نماز کے آخر میں جب «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے تو قنوت فرمائی، آپ ﷺ بنو سلیم کے قبیلوں رعل، ذکوان اور عصیہ کے خلاف دعا کرتے تھے اور مقتدی پیچھے آمین کہتے تھے، آپ ﷺ نے ان کی طرف داعی بھیجے تھے جنہوں نے انہیں قتل کر دیا تھا۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ یہ قنوت کی ابتدا تھی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 915
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، عارم: لقب، واسمه محمد بن الفضل» [ترقيم الرساله 915] [ترقيم الشركة 825] [ترقيم العلميه 820]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. عارم: لقب، واسمه محمد بن الفضل.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: عارم ایک لقب ہے، ان کا اصل نام محمد بن الفضل ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2746)، وأبو داود (1443) من طرق عن ثابت بن يزيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (2746/4) اور ابوداؤد (1443) نے ثابت بن یزید کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 915 سے ماخوذ ہے۔