حدیث نمبر: 9009
أخبرني عَبْدانُ بن يزيد الدَّقاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا أبو طلحة الراسِبي، عن غَيْلان بن جَرير، عن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال: "تُحشَرُ هذه الأمة على ثلاثة أصنافٍ: صنفٍ يدخلون الجنةَ بغير حساب، وصنفٍ يُحاسبون حسابًا يسيرًا، وآخرين يَجيئون (1) على ظُهورِهم أمثالُ الجبال الراسيَة، فيسأل الله عنهم -وهو أعلمُ- فيقول: هؤلاءِ عَبيدٌ من عَبيدي لم يُشرِكوا بي شيئًا، وعلى ظهورِهم الخطايا والذنوبُ، حُطُّوها واجعلوها على اليهود والنصارى، وادخُلوا الجنةَ بَرحْمتي" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8794 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس امت کو تین گروہوں میں جمع کیا جائے گا: ایک گروہ وہ ہوگا جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا، دوسرے گروہ سے آسان حساب لیا جائے گا، اور کچھ دوسرے لوگ آئیں گے جن کی پیٹھوں پر مضبوط پہاڑوں کی طرح (گناہوں کا بوجھ) ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں پوچھے گا، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے، تو فرمائے گا: یہ میرے ان بندوں میں سے ہیں جنہوں نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تھا، جبکہ ان کی پیٹھوں پر خطائیں اور گناہ ہیں۔ ان سے یہ گناہ اتار لو اور انہیں یہود و نصاریٰ پر ڈال دو، اور (ان سے فرمائے گا کہ) میری رحمت سے جنت میں داخل ہو جاؤ۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 9009
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف بهذا ا
تخریج حدیث «ضعيف بهذا اللفظ كما سلف بيانه وتحقيقه عند المصنف برقم (194)» [ترقيم الرساله 9009] [ترقيم الشركة 8900] [ترقيم العلميه 8794]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) قوله: "وآخرين يجيئون" هذا أقرب شيء يقرأ به هذا الحرف في (ز) و (ب)، ووقع مكانه بياض في (م)، وفي (ك) مكانه: وصنف على ظهورهم ....
فنی نکتہ / علّت: (1) قول: "وَآخَرِينَ يَجِيئُونَ"؛ نسخہ (ز) اور (ب) میں اس حرف (لفظ) کا قریب ترین پڑھا جانے والا یہی متن ہے، جبکہ نسخہ (م) میں اس کی جگہ بیاض ہے، اور (ک) میں اس کی جگہ "وصنف على ظهورهم..." ہے۔
(2) ضعيف بهذا اللفظ كما سلف بيانه وتحقيقه عند المصنف برقم (194).
درجۂ حدیث: (2) ان الفاظ کے ساتھ یہ ضعیف ہے جیسا کہ مصنف کے ہاں نمبر (194) کے تحت اس کا بیان اور تحقیق گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 9009 سے ماخوذ ہے۔