المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
الْفُسَّاقُ النِّسَاءُ باب: نافرمان عورتوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 9002
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمة العَدْل، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا مُسلِم بن إبراهيم، حدثنا هشام، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي راشد الحُبْراني، عن عبد الرحمن بن شِبْل قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إِنَّ الفُسّاق هم أهلُ النار" قالوا: يا رسول الله، وما الفُسّاق؟ قال: "النساءُ" قال رجل: يا رسول الله، ألسْنَ أمَّهاتِنا وأخَواتِنا وأزواجَنا؟ قال: "بلى، ولكنَّهنَّ إذا أُعطِينَ لم يَشكُرن، وإذا ابتُلِينَ لم يَصبِرنَ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8787 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک فساق (نافرمان) ہی جہنم والے ہیں۔“ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! فساق کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورتیں۔“ ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ہماری مائیں، ہماری بہنیں اور ہماری بیویاں نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں! لیکن (اکثر کا حال یہ ہے کہ) جب انہیں کچھ دیا جاتا ہے تو شکر ادا نہیں کرتیں، اور جب انہیں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے تو صبر نہیں کرتیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات إلَّا أنه اختلف فيه على يحيى بن أبي كثير كما سلف بيانه عند الحديث رقم (2174)، فهما من حديث واحد، وسلفت هذه القطعة برقم (2808) من رواية معمر عن يحيى بن أبي كثير.
درجۂ حدیث: (3) یہ حدیث صحیح ہے، اس سند کے رجال ثقہ ہیں مگر اس میں یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کیا گیا ہے جیسا کہ حدیث نمبر (2174) کے بیان میں گزر چکا، پس وہ دونوں ایک ہی حدیث ہیں، اور یہ ٹکڑا پہلے نمبر (2808) پر معمر عن یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت سے گزر چکا ہے۔
وأخرجه أحمد 24/ (15531) عن اسماعيل ابن عليّة، عن هشام - وهو الدستوائي - بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (15531/24) نے اسماعیل بن علیہ سے، انہوں نے ہشام —جو دستوائی ہیں— سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (3) یہ حدیث صحیح ہے، اس سند کے رجال ثقہ ہیں مگر اس میں یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کیا گیا ہے جیسا کہ حدیث نمبر (2174) کے بیان میں گزر چکا، پس وہ دونوں ایک ہی حدیث ہیں، اور یہ ٹکڑا پہلے نمبر (2808) پر معمر عن یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت سے گزر چکا ہے۔
وأخرجه أحمد 24/ (15531) عن اسماعيل ابن عليّة، عن هشام - وهو الدستوائي - بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (15531/24) نے اسماعیل بن علیہ سے، انہوں نے ہشام —جو دستوائی ہیں— سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 9002 سے ماخوذ ہے۔