المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ باب: جن مسلمان والدین کے چار بچے (فوت ہو جائیں)، اللہ انہیں جنت میں داخل فرمائے گا
حدیث نمبر: 8970
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا بِشْر بن عُمر (2) الزهراني، حدثنا شعبة، عن سليمان، عن عبد الله بن مُرَّة، عن مسروق، عن عبد الله في قول الله ﷿ ﴿زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ﴾ [النحل:88]، قال: عقاربُ أنيابُها كالنخل الطِّوال (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8755 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
مسروق سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ﴾ ”ہم انہیں عذاب پر عذاب زیادہ کرتے جائیں گے۔“ [سورة النحل: 88] کے متعلق فرمایا: ”(اس عذاب سے مراد وہ) بچھو ہیں جن کے ڈنک طویل کھجور کے درختوں جیسے ہوں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى عمرو.
فنی نکتہ / علّت: (2) قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "عمرو" بن گیا ہے۔
(3) إسناده قوي من أجل أبي قلابة وهو عبد الملك بن محمد الرَّقاشي، وسليمان: هو ابن: مهران الأعمش.
درجۂ حدیث: (3) اس کی سند قوی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ قوت ابو قلابہ کی وجہ سے ہے اور وہ عبدالملک بن محمد الرقاشی ہیں، اور (سند میں مذکور) سلیمان سے مراد: ابن مہران الاعمش ہیں۔
وسلف برقم (3397) من طريق سفيان بن عيينة عن الأعمش.
حوالہ / مصدر: اور یہ روایت پہلے نمبر (3397) پر سفیان بن عیینہ عن الاعمش کے طریق سے گزر چکی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (2) قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "عمرو" بن گیا ہے۔
(3) إسناده قوي من أجل أبي قلابة وهو عبد الملك بن محمد الرَّقاشي، وسليمان: هو ابن: مهران الأعمش.
درجۂ حدیث: (3) اس کی سند قوی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ قوت ابو قلابہ کی وجہ سے ہے اور وہ عبدالملک بن محمد الرقاشی ہیں، اور (سند میں مذکور) سلیمان سے مراد: ابن مہران الاعمش ہیں۔
وسلف برقم (3397) من طريق سفيان بن عيينة عن الأعمش.
حوالہ / مصدر: اور یہ روایت پہلے نمبر (3397) پر سفیان بن عیینہ عن الاعمش کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8970 سے ماخوذ ہے۔