حدیث نمبر: 8869
أخبرنا أحمد بن محمد بن إسماعيل، حدثنا أبي، حدثنا أبو الطاهر وأبو الرَّبيع قالا: حدثنا ابن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن شُرَيح، عن بكر بن عمرو (2) المَعافِري، عن بُكَير بن عبد الله بن الأشجِّ، عن كُرَيب مولى ابن عباس: أنه كان مع ابن عبّاس ومعه ابن الزُّبير في نَفَرٍ، فدخل عليهم أبو هريرة فقال: مُوتُوا فقال ابن الزُّبير: يا أبا هريرة، الدِّينُ قائم، والجهادُ قائم، والصلاةُ والزكاةُ والحجُّ وصيامُ رمضان، قال أبو هريرة: أنْ تموتَ قبل أن تُدرِكَ (3) ما لا يستطيع المحسنُ أن يزيدَ إحسانًا، ولا يستطيع المسيءُ أن يَنزِعَ عن إساءَتِه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8656 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

کُریب (مولیٰ ابن عباس) سے روایت ہے کہ وہ سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہم کے ساتھ چند افراد کی موجودگی میں بیٹھے تھے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: ”تم سب مر جاؤ!“ اس پر ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوہریرہ! (آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟) جبکہ دین قائم ہے، جہاد جاری ہے اور نماز، زکوٰۃ، حج اور رمضان کے روزے (سب) موجود ہیں؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (میری مراد یہ ہے کہ) تم اس وقت کے آنے سے پہلے مر جاؤ جب نہ تو نیکی کرنے والا اپنی نیکی میں اضافہ کر سکے گا اور نہ ہی گناہ گار اپنے گناہ سے توبہ کر سکے گا (یعنی فتنوں کی کثرت کی وجہ سے حالات اتنے بگڑ جائیں گے)۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8869
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل بكر بن عمرو المعافري» [ترقيم الرساله 8869] [ترقيم الشركة 8761] [ترقيم العلميه 8656]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرّف في (ز) و (ب) إلى عوف.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ لفظ تحریف ہو کر ’عوف‘ بن گیا ہے۔
(3) هكذا في "تلخيص الذهبي"، وهو الصحيح، وفي نسخنا الخطية قبل أن لا تدرك، بزيادة "لا"، وما في نسخة الذهبي أصح إلّا إن قيل: زيدت "لا" لتأكيد الكلام لا لنفيه.
نوٹ / توضیح: "تلخیص الذہبی" میں عبارت اسی طرح ہے اور یہی صحیح ہے۔ ہمارے قلمی نسخوں میں الفاظ ہیں: ’قبل أن لا تدرك‘ ("لا" کے اضافے کے ساتھ)۔ ذہبی کے نسخے کی عبارت زیادہ صحیح ہے، الا یہ کہ کہا جائے کہ یہاں "لا" نفی کے لیے نہیں بلکہ کلام کی تاکید کے لیے زائد لایا گیا ہے۔
(1) إسناده حسن من أجل بكر بن عمرو المعافري. أبو الطاهر: هو أحمد بن عمرو بن عبد الله بن السَّرْح، وأبو الربيع: هو سليمان بن داود بن حماد المهري.
درجۂ حدیث: بکر بن عمرو المعافری کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الطاہر سے مراد ’احمد بن عمرو بن عبد اللہ بن السرح‘ ہیں، اور ابو الربیع سے مراد ’سلیمان بن داود بن حماد المہری‘ ہیں۔
وهذا الخبر لم نقف عليه عند غير المصنف.
اہم نکتہ: یہ خبر ہمیں مصنف (حاکم) کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8869 سے ماخوذ ہے۔