حدیث نمبر: 8868
أخبرني أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهرانَ، حدثني أَبي، حدثنا أبو الطاهر وأبو الرَّبيع المِصْريّان قالا: حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عبد الرحمن بن شُرَيح، عن رَبيعة بن سيف (2) المَعافِري، عن إسحاق بن عبد الله: أنَّ عوف بن مالك الأشجعيَّ أتى رسولَ الله ﷺ في فتح له فَسَلَّم عليه، ثم قال: هنيئًا لك يا رسولَ الله، قد أعزَّ اللهُ نصرَك، وأظهرَ دينَك، ووَضَعَت الحربُ أوزارَها بجرَانِها، قال: ورسولُ الله ﷺ في قُبَّةٍ من أَدَمٍ، فقال: "ادخُلْ يا عوفُ" فقال: أدخلُ كُلِّي أو بَعْضي؟ فقال: "ادخُلْ كلُّك" فقال: "إنَّ الحرب لن تضعَ أوزارَها حتى تكونَ ستٌّ، أَوّلُهنَّ موتي" فبكى عوفٌ، قال رسول الله ﷺ: "قُلْ: إحدى، والثانيةُ فتحُ بيتِ المَقدِس، والثالثةُ فتنةٌ تكون في الناس كعُقَاصِ (1) الغنم، والرابعةُ فتنةٌ تكون في الناس لا يبقى أهلُ بيتٍ إِلَّا دَخَل عليهم نَصيبُهم منها، والخامسةُ يولدُ في بني الأصفر غلامٌ من أولاد الملوك، يَشِبُّ في اليوم كما يَشِبُّ الصبيُّ في الجمعة، ويَشِبُّ في الجمعة كما يَشِبُّ الصبيُّ في الشهر، ويَشِبُّ في الشهر كما يَشِبُّ الصبيُّ في السنة، فما بلغ اثنتي عشرةَ سنةً ملَّكوه عليهم، فقام بين أظهُرِهم فقال: إلى متى يَغلِبُنا هؤلاءِ القومُ على مكارمِ أرضنا؟! إني رأيت أن أسيرَ إليهم حتى أُخرِجَهم منها، فقام الخطباءُ فحسَّنوا له رأيَه (2)، فبَعَثَ في الجزائر والبرِّيّة بصَنْعةِ السُّفن، ثم حَمَل فيها المقاتِلةَ حتى ينزلَ بين أنطاكيَةَ والعَريش". قال ابن شُرَيح: فسمعت من يقول: إنهم اثنا عشرَ غَيَايةً (3)، تحت كل غَيَايَةٍ اثنا عشر ألفًا، فيجتمع المسلمون إلى صاحبِهم ببيت المَقدِس، وأَجمَعوا في رأيهم أن يسيروا إلى مدينة الرسول ﷺ حتى تكون مسالحُهم بالسَّرْح وخيبرَ. قال ابن أبي جعفر (4): قال رسول الله ﷺ: "يُخرِجوا أمّتي من مَنابتِ الشِّيح". قال: وقال الحارث بن يزيد: إنهم سيُقيمون (5) فيما هنالك، فيَفِرُّ منهم الثُّلثُ، ويُقتَل منهم الثلثُ، فيَهزِمُهم الله ﷿ بالثلث الصابر. وقال خالد بن يزيد: يومئذٍ يَضْرِبُ والله بسيفه، ويَطعُنُ برمحِه، ويَتبَعُه المسلمون حتى يَبلُغوا المَضِيقَ الذي عند القُسطنطِينيَّة، فيجدونه قد يَبسَ ماؤُه فيُجِيزون إلى المدينة حتى يَنزِلوا بها، فيَهِدمُ الله جُدرانَهم بالتكبير ثم يَدخُلونها عليهم، فيَقسِمون أموالَهم بالأترِسَة. وقال أبو قَبِيل المَعافِري: فبينما هم على ذلك، إذْ جاءهم راكبٌ فقال: أنتم هاهنا والدَّجالُ قد خالَفَكم في أهلِيكم؛ وإنما كانت كَذِبةً، فمن سَمِعَ العلماءَ في ذلك أقام على ما أصابه، وأمّا غيرُهم فانفَضُّوا، ويكون المسلمون يَبنُون المساجدَ في القُسطنطِينيّة ويَغزُون وراءَ ذلك حتى يخرجَ الدجالُ، السادسةُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8655 - فيه انقطاع
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک فتح کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ کو سلام کیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو مبارک ہو، اللہ نے آپ کی نصرت کو عزت بخشی، آپ کے دین کو غالب کیا اور جنگ نے اپنے بوجھ (ہتھیار) ڈال دیے ہیں۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ چمڑے کے ایک خیمے (قبے) میں تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عوف! اندر آ جاؤ۔“ انہوں نے پوچھا: پورا اندر آؤں یا آدھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پورے اندر آ جاؤ۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنگ اس وقت تک اپنے بوجھ نہیں ڈالے گی جب تک چھ (نشانیاں) ظاہر نہ ہو جائیں: پہلی میری موت۔“ یہ سن کر عوف رونے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: یہ پہلی ہے۔ دوسری: بیت المقدس کی فتح۔ تیسری: لوگوں میں ایک ایسی وبا (موت) پھیلے گی جو بکریوں کی بیماری (عُقاص) کی طرح (اچانک مار دینے والی) ہوگی۔ چوتھی: ایک ایسا فتنہ ہوگا جس سے لوگوں کا کوئی گھر ایسا نہ بچے گا جس میں اس کا اثر داخل نہ ہو۔ پانچویں: بنو اصفر (رومیوں) میں بادشاہوں کی اولاد میں سے ایک لڑکا پیدا ہوگا، وہ ایک دن میں اتنا بڑھے گا جتنا عام بچہ ایک ہفتے میں بڑھتا ہے، وہ ایک ہفتے میں اتنا بڑھے گا جتنا عام بچہ مہینے میں، اور ایک مہینے میں اتنا بڑھے گا جتنا عام بچہ سال بھر میں بڑھتا ہے؛ جب وہ بارہ سال کا ہوگا تو وہ اسے اپنا بادشاہ بنا لیں گے، پھر وہ ان کے درمیان کھڑا ہو کر کہے گا: کب تک یہ لوگ (مسلمان) ہماری بہترین زمینوں پر غالب رہیں گے؟! میرا ارادہ ہے کہ میں ان کی طرف لشکر لے کر جاؤں اور انہیں وہاں سے نکال دوں۔ پس مقررین کھڑے ہوں گے اور اس کی رائے کی تائید کریں گے، وہ جزیروں اور خشکی میں کشتیاں بنانے کا حکم دے گا، پھر ان میں جنگجوؤں کو سوار کر کے انطاکیہ اور عریش کے درمیان لا اتارے گا۔“ ابن شریح کہتے ہیں کہ میں نے کسی کو کہتے سنا: وہ بارہ جھنڈوں (غیایہ) کے نیچے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار سپاہی ہوں گے، مسلمان بیت المقدس میں اپنے امیر کے پاس جمع ہوں گے اور ان کی متفقہ رائے یہ ہوگی کہ وہ مدینۃ الرسول (مدینہ منورہ) کی طرف کوچ کریں یہاں تک کہ ان کی چوکیاں مقامِ سرح اور خیبر تک پہنچ جائیں گی۔ ابن ابی جعفر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میری امت کو ریگستانی پودوں (شیح) کے اگنے کے مقامات تک نکال دیں گے۔“ حارث بن یزید کہتے ہیں کہ وہ (رومی) وہاں مقیم رہیں گے، مسلمانوں کا ایک تہائی حصہ (خوف سے) بھاگ جائے گا، ایک تہائی شہید کر دیا جائے گا، اور اللہ عزوجل صبر کرنے والے ایک تہائی کے ذریعے انہیں شکست عطا فرمائے گا۔ خالد بن یزید کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اس دن مسلمان اپنی تلواروں اور نیزوں سے لڑیں گے اور ان کا پیچھا کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچ جائیں گے جو قسطنطنیہ کے پاس ایک تنگ راستہ ہے، وہ دیکھیں گے کہ وہاں کا پانی خشک ہو چکا ہے، پس وہ اس سے گزر کر شہر (قسطنطنیہ) تک پہنچ جائیں گے اور وہاں ڈیرہ ڈالیں گے، پھر اللہ تعالیٰ تکبیر (اللہ اکبر کی پکار) کے ذریعے ان کی دیواریں گرا دے گا اور مسلمان ان پر غالب آ جائیں گے اور ڈھالوں بھر بھر کر مالِ غنیمت تقسیم کریں گے۔ ابوقبیل کہتے ہیں کہ وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اچانک ایک سوار آئے گا اور کہے گا: تم یہاں ہو جبکہ دجال تمہارے پیچھے تمہارے اہل و عیال میں پہنچ چکا ہے؛ حالانکہ یہ ایک جھوٹی خبر ہوگی، پس جن لوگوں نے اہل علم کی باتیں سنی ہوں گی وہ اپنی کامیابی پر جمے رہیں گے اور باقی لوگ منتشر ہو جائیں گے، مسلمان قسطنطنیہ میں مسجدیں تعمیر کر رہے ہوں گے اور اس کے آگے جہاد کر رہے ہوں گے یہاں تک کہ دجال نکل آئے گا، اور یہ چھٹی نشانی ہوگی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8868
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف بهذا السياق
تخریج حدیث «ضعيف بهذا السياق، وأعله الذهبي في "تلخيصه" بالانقطاع، ولعله أراد بين إسحاق بن عبد الله وعوف بن مالك، وإسحاق هذا لم نتبيَّنه، ففي هذه الطبقة بهذا الاسم ممَّن ترجم له المزّي وغيره بضعة رجال، والراوي عنه» [ترقيم الرساله 8868] [ترقيم الشركة 8760] [ترقيم العلميه 8655]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ إلى: يوسف.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر ’یوسف‘ بن گیا ہے۔
(1) تحرَّف في (م) و (ب) إلى: كعقاص، بتقديم العين المهملة. والقعاص: داء يصيب الدوابّ فيسيل من أنوفها شيء فتموت فجأة.
نوٹ / توضیح: نسخہ (م) اور (ب) میں یہ لفظ تحریف ہو کر ’کعقاص‘ (عین کی تقدیم کے ساتھ) بن گیا ہے۔ درست ’القعاص‘ ہے، یہ چوپایوں کو لگنے والی ایک بیماری ہے جس میں ان کی ناک سے رطوبت بہتی ہے اور وہ اچانک مر جاتے ہیں۔
(2) قوله: "له رأيه" تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الدراية، والتصويب من "تلخيص الذهبي".
نوٹ / توضیح: اس قول "لہ رأیہ" میں قلمی نسخوں کے اندر تحریف ہو کر ’الدرایۃ‘ بن گیا تھا، جس کی تصحیح "تلخیص الذہبی" سے کی گئی ہے۔
(3) هكذا في النسخ الخطية بياءين، وقد سلف التعليق على هذا الحرف عند الرواية السالفة برقم (8508).
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ اسی طرح دو ’یا‘ کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ اس لفظ پر تبصرہ سابقہ روایت نمبر (8508) کے تحت گزر چکا ہے۔
(4) ابن أبي جعفر هذا: هو عبيد الله بن أبي جعفر المصري الفقيه، وهو من شيوخ عبد الرحمن بن شريح، وكذا من شيوخه الثلاثةُ المذكورون لاحقًا: الحارث بن يزيد وخالد بن يزيد وأبو قبيل المعافري، وثلاثتهم من ثقات المصريّين، وأبو قبيل: اسمه حيّ بن هانئ.
فنی نکتہ / علّت: ابن ابی جعفر سے مراد ’عبید اللہ بن ابی جعفر المصری الفقیہ‘ ہیں، یہ عبد الرحمن بن شریح کے اساتذہ میں سے ہیں۔ اسی طرح بعد میں مذکور تینوں شیوخ (حارث بن یزید، خالد بن یزید اور ابو قبیل المعافری) بھی ان کے اساتذہ ہیں اور یہ تینوں مصر کے ثقہ راویوں میں سے ہیں۔ ابو قبیل کا نام ’حیی بن ہانی‘ ہے۔
(5) في النسخ الخطية: سيقيموا، بحذف النون، والجادة ما أثبتنا.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ ’سیقیموا‘ (نون کے حذف کے ساتھ) ہے، جبکہ جو ہم نے (متن میں) درج کیا ہے (سیقیمون) وہی معیاری عربی قاعدہ ہے۔
(1) ضعيف بهذا السياق، وأعله الذهبي في "تلخيصه" بالانقطاع، ولعله أراد بين إسحاق بن عبد الله وعوف بن مالك، وإسحاق هذا لم نتبيَّنه، ففي هذه الطبقة بهذا الاسم ممَّن ترجم له المزّي وغيره بضعة رجال، والراوي عنه - وهو ربيعة بن سيف - ضعيف عنده مناكير، ثم إنَّ عبد الرحمن بن شريح قد روى عن شيوخه المشار إليهم في التعليق السابق أحرفًا مقاطيع لم يسندها.
درجۂ حدیث: اس سیاق کے ساتھ یہ روایت ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے "التلخیص" میں اسے منقطع قرار دے کر معلول ٹھہرایا ہے۔ غالباً ان کی مراد اسحاق بن عبد اللہ اور عوف بن مالک کے درمیان انقطاع ہے، کیونکہ اسحاق کی تعیین ہمیں نہیں ہو سکی؛ اس طبقے میں اس نام کے کئی راوی ہیں جن کا ذکر مزی وغیرہ نے کیا ہے۔ نیز ان سے روایت کرنے والے ربیعہ بن سیف ضعیف ہیں اور ان کے پاس منکر روایات ہیں۔ مزید برآں عبد الرحمن بن شریح نے اپنے ان شیوخ (جن کا ذکر پچھلی تعلیق میں گزرا) سے یہ روایات ٹکڑوں کی صورت میں (احرفاً مقاطیع) روایت کی ہیں اور پوری سند بیان نہیں کی۔
وهذا الحديث بهذا السياق انفرد به المصنف، ويغني عنه ما سلف من غير وجه عن عوف بن مالك برقم (6460) و (8500) و (8508)، وهو صحيح.
اہم نکتہ: اس سیاق کے ساتھ اس حدیث کو روایت کرنے میں مصنف (حاکم) منفرد ہیں۔ تاہم عوف بن مالک سے مروی دیگر طرق جو پہلے نمبر (6460)، (8500) اور (8508) پر گزر چکے ہیں، وہ اس سے کفایت کرتے ہیں اور وہ صحیح ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8868 سے ماخوذ ہے۔