المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ : مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ باب: قرآن پڑھنے والے تین طرح کے ہیں: مومن، منافق اور فاجر
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيوة بن شُريح، حدثني بَشِير بن أبي عمرو الخَوْلاني، أنَّ الوليد بن قيس التُّجِيبي حدَّثه، أنه سمع أبا سعيد الخُدْري يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: يكون خَلْفٌ من بعدِ ستينَ سنةً أضاعوا الصلاة واتَّبَعوا الشَّهَواتِ، فسوف يلقون غَيًّا، ثم يكون خَلْفٌ من بعدِ ستينَ سنةً يقرؤُون القرآنَ لا يَعدُو تَراقِيهَم، ويقرأُ القرآنَ ثلاثةٌ: مؤمنٌ، ومنافقٌ، وفاجرٌ". قال بشير: فقلتُ للوليد: ما هؤلاءِ الثلاثةُ؟ قال: المنافق كافرٌ به، والفاجر يتأكَّلُ به، والمؤمن يؤمنُ به (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8643 - صحيحسیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ساٹھ سال کے بعد ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے جو نماز کو ضائع کر دیں گے اور اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے، پس وہ عنقریب تباہی (غی) سے دوچار ہوں گے، پھر ساٹھ سال کے بعد ایسے نااہل لوگ ہوں گے جو قرآن تو پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور قرآن تین طرح کے لوگ پڑھیں گے: مومن، منافق اور بدکار۔“ بشیر کہتے ہیں کہ میں نے ولید سے پوچھا: ان تینوں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: منافق اس کا انکار کرنے والا ہے، بدکار اس کے ذریعے (دنیا) کھانے والا ہے اور مومن اس پر ایمان لانے والا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (3456) پر گزر چکی ہے۔