حدیث نمبر: 8847
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن مجاهد، عن مُورِّق، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ: "إني أَرى ما لا تَرَون، وأسمعُ ما لا تَسمعون، إنَّ السماء أَطَّتْ، وحُقَّ لها أن تَئِطَّ، ما فيها - أو ما منها - موضعُ أربعِ أصابعَ إلَّا ومَلَكٌ واضعٌ جبهتَه ساجدًا (1) لله، والله لو تعلمون ما أعلمُ لَضحِكتُم قليلًا ولبكيتُم كثيرًا، وما تلذَّذتُم بالنساء على الفُرُشات (2)، ولخرجتُم إلى الصُّعُدات تجأَرُون إلى الله"، والله لوَدِدتُ أن كنت شجرةً تُعضَدُ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8633 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان (فرشتوں کے بوجھ سے) چرچرا رہا ہے اور اسے چرچرانا ہی چاہیے، کیونکہ اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ اللہ کے حضور سجدہ ریز نہ ہو، اللہ کی قسم! اگر تم وہ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لذت حاصل نہ کرتے بلکہ تم بلندیوں اور میدانوں کی طرف نکل جاتے اور اللہ کے حضور گریہ و زاری کرتے“، (یہ سن کر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا) اللہ کی قسم! میں تو یہ تمنا کرتا ہوں کہ کاش میں کوئی درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8847
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وقد سلف برقم (3927) من طريق أحمد بن حازم الغفاري عن عبيد الله بن موسى» [ترقيم الرساله 8847] [ترقيم الشركة 8737] [ترقيم العلميه 8633]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز) و (ب): ساجد، على صورة الرفع والمثبت من (ك) و (م)، وهو الجادَّة.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں ’ساجد‘ (حالتِ رفع کی صورت میں) ہے، جبکہ متن میں جو لفظ (ساجداً) لکھا گیا ہے وہ نسخہ (ک) اور (م) سے لیا گیا ہے اور وہی درست طریقہ ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى فرحات.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر ’فرحات‘ بن گیا ہے۔
(3) حسن لغيره، وقد سلف برقم (3927) من طريق أحمد بن حازم الغفاري عن عبيد الله بن موسى. وسيأتي مكررًا بالإسناد الذي هنا برقم (8941).
درجۂ حدیث: یہ حدیث ’حسن لغیرہ‘ ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (3927) پر احمد بن حازم الغفاری عن عبید اللہ بن موسیٰ کے طریق سے گزر چکی ہے۔ اور یہاں والی سند کے ساتھ دوبارہ نمبر (8941) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8847 سے ماخوذ ہے۔