المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
ذِكْرُ نَفْخِ الصُّورِ وَإِنْبَاتِ الْأَجْسَادِ باب: صور پھونکے جانے اور جسموں کے دوبارہ اگنے کا تذکرہ
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا أبو الموجِّه محمد بن عمرو الفَزَاري، حدثنا عَبْدانُ بن عثمان، أخبرني أبي، عن شُعبة، عن النُّعمان ابن سالم، عن يعقوب بن عاصم، عن عبد الله بن عمرو قال: والله لولا شيءٌ ما حدَّثتُكم حديثًا، قالوا: إنك قلتَ: لا تقومُ الساعةُ إلى كذا وكذا، قال: إنما قلتُ: لا يكونُ كذا وكذا حتى يكونَ أمرٌ عظيمٌ (1)، فقد كان ذاكَ، فقد حُرِّق البيتُ، وكان كذا، وقال رسول الله ﷺ: "يخرج الدَّجالُ فيلبَتُ في أمتي ما شاء الله، يَلبَثُ أربعين"، ولا أدري ليلةً أو شهرًا أو سنةً، قال: "ثم يَبْعَثُ الله عيسى ابنَ مريمَ ﵇ كأنه عُرُوةُ بنُ مسعود الثَّقفي، قال: فيطلبُه حتى يُهلِكَه، قال: ثم يبقى الناسُ سبعَ سنين، ليس بين اثنين عَدَاوَةٌ، قال: فيبعثُ الله ريحًا باردةً تجيءُ من قِبَل الشام، فلا تَدَعُ أحدًا في قلبه مثقال ذرّةِ إيمانٍ إِلَّا قَبَضَت روحَه، [حتى] لو أن أحدَكم في كَبِدِ جبلٍ [دَخَلَت عليه"، سمعت هذه من رسول الله ﷺ: كَبِد جبل] (2) قال: "ثم يبقى شِرارُ الناس، من لا يعرفُ معروفًا ولا ينكرُ منكرًا، في خِفّة الطير وأحلام السِّباع، قال: فيجيئُهم الشيطانُ فيقول: ألا تستجيبونَ؟ قال: فيقولون: ماذا تأمرُنا؟ قال: فيأمرُهم بعبادة الأوثان فيَعبُدونها، وهم في ذلك دارٌّ رِزقُهم، حسنٌ عيَشُهم، قال: ثم يُنفَخُ في الصُّور فلا يَسمعُه أحدٌ إِلَّا أَصغَى، فيكونُ أولَ من يَسمعُه رجلٌ يَلُوطُ حوضَ إبلِه، قال: فيَصعَةُ، ثم يَصعَقُ الناسُ، فيُرسِلُ الله مطرًا كأنه الطَّلُّ، قال: فَتَنبُتُ أجسادُهم، قال: ثم يُنفَخُ فيه فإذا هم قيامٌ يَنظُرون، فيقال: هَلُمَّ إلى ربِّكم، قِفُوهم إنهم مسؤُولون، قال: فيقال: أَخرجوا بَعْثَ النارِ، قال: فيقال: كم؟ فيقال: من كلِّ ألفٍ تسعَ مئة وتسعةً وتسعين" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8632 - على شرط مسلمسیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر ایک خاص بات نہ ہوتی تو میں تمہیں کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔“ لوگوں نے (یہ گمان کرتے ہوئے) عرض کیا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ قیامت فلاں فلاں وقت تک آ جائے گی، تو انہوں نے وضاحت فرمائی: ”میں نے تو یہ کہا تھا کہ فلاں فلاں بڑے امور پیش آنے تک ایسا نہیں ہوگا“، اور وہ امور پیش آ چکے ہیں جیسے بیت اللہ کا نذرِ آتش ہونا وغیرہ، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دجال نکلے گا اور میری امت میں جتنا اللہ چاہے گا ٹھہرے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس“، (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم کہ چالیس راتیں، مہینے یا سال، پھر فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا جو (شکل و صورت میں) عروہ بن مسعود ثقفی کے مشابہ ہوں گے، وہ اسے تلاش کر کے ہلاک کر دیں گے، پھر لوگ سات سال تک اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی دشمنی نہیں ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا جو روئے زمین پر کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو مگر اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی پہاڑ کے اندرونی حصے میں بھی چھپا ہوا ہوا تو وہ ہوا وہاں بھی داخل ہو جائے گی،“ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ الفاظ یعنی پہاڑ کا اندرونی حصہ سنے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی تیزی پرندوں جیسی اور عقلیں درندوں جیسی ہوں گی، وہ نہ نیکی کو پہچانیں گے اور نہ برائی سے روکیں گے، پھر شیطان ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: کیا تم میری بات نہیں مانو گے؟ وہ پوچھیں گے: تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے؟ وہ انہیں بتوں کی پوجا کا حکم دے گا اور وہ ان کی عبادت کرنے لگیں گے، اس حال میں بھی ان کا رزق فراواں ہوگا اور ان کی زندگی خوشحال ہوگی، پھر صور پھونکا جائے گا، جو بھی اسے سنے گا (دہشت سے) گردن ایک طرف جھکا دے گا، سب سے پہلے وہ شخص اسے سنے گا جو اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا، وہ بے ہوش ہو کر گر جائے گا اور پھر تمام لوگ بے ہوش ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا جو شبنم کی طرح ہوگی جس سے لوگوں کے اجسام (دوبارہ) اگ آئیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اچانک کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں گے، پھر کہا جائے گا: اپنے رب کی طرف آؤ، ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ ”انہیں ٹھہراؤ، یقیناً ان سے سوال کیا جانا ہے۔“ [سورة الصافات: 24] پھر کہا جائے گا: جہنم کا لشکر نکالو، پوچھا جائے گا: کتنا؟ جواب ملے گا: ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے (999)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ الفاظ ’أمرًا عظيمًا‘ (حالتِ نصب میں) لکھے ہیں، جس کی کوئی نحوی توجیہ نہیں بنتی، کیونکہ یہاں لفظ "یکون" تامہ (مکمل) ہے، لہٰذا اس کا معنی ہے: "یہاں تک کہ ایک بڑا معاملہ پیش آجائے" (اس لیے یہ حالتِ رفع میں ہونا چاہیے)۔
(2) ما بين المعقوفين ليس في نسخنا الخطية، وهو من "تلخيص الذهبي".
نوٹ / توضیح: بریکٹ (قوسین) میں موجود عبارت ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں ہے، یہ امام ذہبی کی "التلخیص" سے لی گئی ہے۔
(3) إسناده صحيح. عبدان بن عثمان: هو عبد الله بن عثمان بن جَبَلة المروزي، وعبدانُ لقبة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبدان بن عثمان سے مراد ’عبد اللہ بن عثمان بن جبلہ مروزی‘ ہیں، اور ’عبدان‘ ان کا لقب ہے۔
وقد انفرد المصنف بإخراج هذا الحديث من طريق عبدان، وسيأتي برقم (8867) من طريق محمد بن جعفر عن شعبة، وانظر تخريجه هناك. واستدراك المصنف له ذهولٌ، فإنه عند مسلم في "صحيحه" كما سيأتي.
فنی نکتہ / علّت: مصنف (امام ابن حبان) اس حدیث کو عبدان کے طریق سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ آگے یہی حدیث نمبر (8867) پر محمد بن جعفر عن شعبہ کے طریق سے آئے گی، اس کی تخریج وہیں دیکھیں۔ مصنف کا یہ کہنا کہ یہ حدیث مسلم میں نہیں ہے (استدراک)، ان کا وہم یا بھول ہے، کیونکہ یہ صحیح مسلم میں موجود ہے جیسا کہ آگے ذکر ہوگا۔