المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
لَنْ تُفْتَنَ أُمَّتِي حَتَّى يَظْهَرَ فِيهِمُ التَّمَايُزُ ، وَالتَّمَايُلُ ، وَالْمَقَامِعُ باب: میری امت اس وقت تک فتنے میں نہیں پڑے گی جب تک ان میں تفریق، کج روی اور ظلم ظاہر نہ ہو جائے
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أحمد بن سعيد الجمَّال، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا شُعبة، عن حُصَين، عن عبد الأعلى بن الحَكَم (2) رجلٍ من بني عامر، عن خارجة بن الصَّلت البُرْجُمي قال: دخلتُ مع عبد الله المسجدَ، فإذا القومُ ركوعٌ، فركع، فمَرَّ رجل فسلَّم عليه، فقال عبد الله: صدقَ الله ورسولُه، ثم وصل إلى الصفِّ، فلما فَرَغَ سألتُه عن قوله: صدق الله ورسولُه، فقال: إنه كان يقال (3): لا تقوم الساعةُ حتى تُتَّخذَ المساجد طُرقًا، وحتى يسلِّم الرجلُ على الرجل بالمعرفة، وحتى تَتَّجِرَ المرأةُ وزوجُها، وحتى تَغلُوَ الخيلُ والنساءُ ثم تَرخُصَ فلا تَعْلُو إلى يوم القيامة (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8598 - صحيحخارجہ بن صلت البرجمی سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا تو لوگ رکوع کی حالت میں تھے، پس انہوں نے (عبداللہ نے) بھی رکوع کیا، اتنے میں ایک شخص گزرا اور اس نے انہیں سلام کیا تو عبداللہ نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا“، پھر وہ صف تک پہنچ گئے، جب وہ (نماز سے) فارغ ہوئے تو میں نے ان سے ان کے اس قول ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا“ کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: (رسول اللہ ﷺ کی جانب سے) یہ کہا جاتا تھا کہ: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مساجد کو راستے کے طور پر (گزر گاہ) نہ بنا لیا جائے، اور جب تک کہ آدمی صرف اپنی جان پہچان والے کو سلام نہ کرنے لگے، اور جب تک کہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ مل کر تجارت نہ کرنے لگے، اور جب تک کہ گھوڑے اور عورتیں مہنگی نہ ہو جائیں اور پھر (ایسی) سستی ہوں گی کہ قیامت تک دوبارہ مہنگی نہ ہوں گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (نام) "عبد الحکم" لکھا گیا ہے، جو کہ غلط ہے۔
(3) في (ك) وحدها: كان يقول.
نوٹ / توضیح: صرف نسخہ (ک) میں "کان یقول" کے الفاظ ہیں۔
(4) إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله، كما سبق بيانه برقم (8584).
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند میں "تحسین" (حسن ہونے) کا احتمال ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (8584) میں بیان ہو چکا۔