حدیث نمبر: 88
حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن كامل القاضي ببغداد وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيْرفي بمَرْو قالا: حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا إبراهيم بن حُميد، حدثنا صالح بن أبي الأخضر، عن الزُّهري، عن عروة، عن حَكيم بن حِزام قال: قلت: يا رسول الله، رُقًى كنا نَستَرقي بها، وأدويةٌ كنّا نتداوى بها، هل تردُّ من قَدَرِ الله؟ قال: "هو من قَدَرِ الله" (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جن منتروں سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور جن دواؤں سے ہم علاج کرتے ہیں، کیا وہ اللہ کی تقدیر میں سے کچھ ٹال سکتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بھی اللہ کی تقدیر ہی میں سے ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 88
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح بن أبي الأخضر، وللخلاف الذي وقع فيه كما بيَّنّا في الحديث السابق» [ترقيم الرساله 88] [ترقيم الشركة 88]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح بن أبي الأخضر، وللخلاف الذي وقع فيه كما بيَّنّا في الحديث السابق. أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرَّقاشي.
درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ سند صالح بن ابی الاخضر کے ضعف اور اس میں موجود اختلاف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
نوٹ / توضیح: سند میں موجود ابوقلابہ سے مراد "عبدالملک بن محمد رقاشی" ہیں۔
وأخرجه الطبراني (3090)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1890) من طريق أبي مسلم الكشّي، عن إبراهيم بن حميد - وهو الطويل - بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی (3090) اور ابونعیم نے "معرفہ الصحابہ" (1890) میں ابومسلم کجی کے واسطے سے ابراہیم بن حمید (جو کہ الطویل ہیں) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (7619) و (8427).
اہم نکتہ: یہ روایت آگے نمبر (7619) اور (8427) پر دوبارہ آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 88 سے ماخوذ ہے۔