حدیث نمبر: 8755
حدثنا علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا مسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا أبو مالك الأشجَعي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: يُسرَى على كتاب الله فيُرفَعُ إلى السماء، فلا يصبحُ في الأرض آيةٌ من القرآن ولا من التوراة والإنجيل ولا الزَّبور، ويُنتزَعُ من قلوب الرِّجال فيصبحون ولا يَدرُون ما هو (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8544 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب پر ایک ایسی رات آئے گی کہ اسے (زمین سے) آسمان کی طرف اٹھا لیا جائے گا، پس صبح کے وقت زمین پر نہ قرآن کی کوئی آیت باقی رہے گی اور نہ ہی تورات، انجیل یا زبور کی کوئی آیت بچے گی، اور اسے لوگوں کے سینوں سے بھی کھینچ لیا جائے گا، تو وہ اس حال میں صبح کریں گے کہ وہ کچھ نہیں جانتے ہوں گے کہ یہ (قرآن) کیا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8755
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح. أبو مالك الأشجعي: هو سعد بن طارق
تخریج حدیث «إسناده صحيح. أبو مالك الأشجعي: هو سعد بن طارق، وأبو حازم: هو سلمان الأشجعي. وروي نحوه مرفوعًا من طريق علي بن مسهر عن سعد بن طارق» [ترقيم الرساله 8755] [ترقيم الشركة 8647] [ترقيم العلميه 8544]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو مالك الأشجعي: هو سعد بن طارق، وأبو حازم: هو سلمان الأشجعي. وروي نحوه مرفوعًا من طريق علي بن مسهر عن سعد بن طارق - وهو أبو مالك الأشجعي - عن أبي حازم عن أبي هريرة رفعه، بلفظ: "ويُسرَى على كتاب الله فيُرفع إلى السماء، فلا يبقى منه آية"، أخرجه ابن حبان في "صحيحه" (6853) ضمن حديث مطوّل، وسنده إلى علي بن مسهر حسن.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابو مالک اشجعی کا نام سعد بن طارق ہے اور ابو حازم کا نام سلمان اشجعی ہے۔
متابعات و شواہد: اسے علی بن مسہر کے طریق سے سعد بن طارق (ابو مالک اشجعی) سے، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اسی طرح روایت کیا ہے جس کے الفاظ ہیں: "اور اللہ کی کتاب پر راتوں رات عمل ہوگا (یا اٹھا لی جائے گی) تو اسے آسمان کی طرف اٹھا لیا جائے گا، حتیٰ کہ اس کی کوئی آیت باقی نہ رہے گی"۔ اسے ابن حبان نے اپنی "صحیح" (6853) میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نکالا ہے اور علی بن مسہر تک ان کی سند حسن ہے۔
وأخرجه أبو منصور الديلمي في "مسند الفردوس" كما في "الغرائب الملتقطة" لابن حجر (3596) من طريق الفضيل بن سليمان، عن أبي مالك الأشجعي، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة، وعن أبي حازم عن أبي هريرة مرفوعًا بنحو ما عند ابن حبان. وهذا إسناد حسن. وحديث حذيفة سلف عند المصنف برقم (8668) ضمن حديث.
حوالہ: اسے ابو منصور دیلمی نے "مسند الفردوس" میں تخریج کیا جیسا کہ ابن حجر کی "الغرائب الملتقطۃ" (3596) میں ہے، یہ فضیل بن سلیمان کے طریق سے، انہوں نے ابو مالک اشجعی سے، انہوں نے ربعی بن حراش سے، انہوں نے حذیفہ سے اور (نیز) ابو حازم سے، انہوں نے ابوہریرہ سے مرفوعاً ابن حبان کی روایت کی طرح نقل کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند حسن ہے۔
نوٹ: حضرت حذیفہ کی حدیث مصنف (حاکم) کے ہاں نمبر (8668) پر ایک حدیث کے ضمن میں گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8755 سے ماخوذ ہے۔