المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَعُولُ باب: آدمی کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان کو ضائع کر دے جن کی کفالت اس کے ذمے ہے
حدیث نمبر: 8737
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن زيد بن وهب، عن حُذَيفة قال: إنَّ للفتنة بَعَثاتٍ ووَقَفاتٍ، فإن استطعتَ أن تموت في وَقَفاتها فافعَلْ. قال عبد الرحمن: وحدثنا سفيان، عن الحارث بن حَصِيرةَ، عن زيد بن وهب قال: سُئِلَ حذيفةُ: ما وَقَفاتُها؟ قال: إذا غُمِدَ السيف، قال: ما بَعَثَاتُها؟ قال: إذا سُلَّ السيف (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8527 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: فتنوں کے کچھ ابھار (تیزی) کے مواقع ہیں اور کچھ ٹھہراؤ (رک جانے) کے، پس اگر تم اس بات کی استطاعت رکھو کہ تمہیں موت ان کے ٹھہراؤ کی حالت میں آئے تو ایسا ہی کرو۔ زید بن وہب کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ سے پوچھا گیا: ان کا ٹھہراؤ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جب تلوار نیام میں ہو، پوچھا گیا: ان کا ابھار (تیزی) کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جب تلوار سونت لی جائے (یعنی جنگ و قتال برپا ہو)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو الثوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی کی تحقیق: سفیان سے مراد سفیان الثوری ہیں۔
وأخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (161 - 162) عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (161-162) میں عبد الرحمٰن بن مہدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج الشطر الثاني منه ابن أبي شيبة 15/ 19 عن وكيع، عن سفيان، به.
حوالہ / مصدر: اس کا دوسرا حصہ ابن ابی شیبہ (15/19) نے وکیع عن سفیان سے روایت کیا ہے۔
والشطر الأول سلف برقم (8538) من طريق الحسين بن حفص عن سفيان.
نوٹ / توضیح: اس کا پہلا حصہ پیچھے نمبر (8538) پر حسین بن حفص عن سفیان کے طریق سے گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی کی تحقیق: سفیان سے مراد سفیان الثوری ہیں۔
وأخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (161 - 162) عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (161-162) میں عبد الرحمٰن بن مہدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج الشطر الثاني منه ابن أبي شيبة 15/ 19 عن وكيع، عن سفيان، به.
حوالہ / مصدر: اس کا دوسرا حصہ ابن ابی شیبہ (15/19) نے وکیع عن سفیان سے روایت کیا ہے۔
والشطر الأول سلف برقم (8538) من طريق الحسين بن حفص عن سفيان.
نوٹ / توضیح: اس کا پہلا حصہ پیچھے نمبر (8538) پر حسین بن حفص عن سفیان کے طریق سے گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8737 سے ماخوذ ہے۔