المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
ذِكْرُ عَلَامَاتِ خُرُوجِ الدَّجَّالِ باب: دجال کے خروج کی علامات کا تذکرہ
أخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهري، عن أبي إدريس الخَولاني، قال: أدركتُ أبا الدرداء ووَعَيتُ عنه، وأدركتُ عُبادة بن الصامت ووَعَيتُ عنه، وفاتني معاذُ بن جبل، فأخبرني يزيدُ بن عَمِيرة: أنه كان يقول في كل مجلس يجلسُه: اللهُ حَكَمٌ قِسط تبارك اسمُه، هَلَكَ المُرتابون، إنَّ من ورائكم فتنًا يَكثُر فيها المال، ويُفتح فيها القرآنُ حتى يأخذه الرجلُ والمرأة، والحرُّ والعبد، والصغيرُ والكبير، فيوشكُ الرجل أن يقرأ القرآن [فيقول: قد قرأتُ القرآن، فما للناس لا يتَّبعوني وقد قرأتُ القرآن؟!] (1) ثم يقول: ما هم مُتَّبِعيَّ حتى أبتدع لهم غيره، فإياكم وما ابتدعتُم، فإنَّ ما ابتدعَ ضلالةٌ. اتقوا زَلَّةَ الحكيم، فإنَّ الشيطان يُلقي على فمِ الحَكيم الضلالةَ، ويُلقي للمنافق كلمةَ الحق، قال: قلنا: وما يدريك - يرحمُك الله - أنَّ المنافق يُلقَّى كلمة الحق، وأنَّ الشيطان يُلقي على فم الحكيم كلمة الضلالة؟ قال: اجتنبوا من كلام الحكيم كلَّ متشابهٍ، الذي إذا سمعته قلت: ما هذا؟ ولا يُثنيك [ذلك] عنه، فإنه لعله أن يراجع ويُلقَّى الحقَّ، فاسمعه فإنه على الحق نورٌ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8422 - على شرط البخاري ومسلمابو ادریس خولانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو پایا اور ان سے علمی فیض حاصل کیا، اور میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو بھی پایا اور ان سے احادیث یاد کیں، البتہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات نہ ہو سکی، چنانچہ یزید بن عمیرہ نے مجھے بتایا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جس مجلس میں بھی بیٹھتے تھے تو یہ ضرور کہتے تھے: «اللَّهُ حَكَمٌ قِسْطٌ، تَبَارَكَ اسْمُهُ، هَلَكَ الْمُرْتَابُونَ» ”اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والا عادل حاکم ہے، اس کا نام بڑی برکت والا ہے، اور شک کرنے والے ہلاک ہو گئے“، (وہ مزید کہتے کہ) بے شک تمہارے بعد ایسے فتنے آنے والے ہیں جن میں مال کی کثرت ہوگی، اور قرآن کو (پڑھنا اتنا عام اور) کھول دیا جائے گا کہ اسے مرد، عورت، آزاد، غلام، چھوٹا اور بڑا سبھی حاصل کر لیں گے، تو عنقریب ایک آدمی قرآن پڑھے گا تو وہ (اپنے جی میں) کہے گا: ”میں نے قرآن پڑھ لیا ہے، مگر کیا بات ہے کہ لوگ میری پیروی نہیں کر رہے حالانکہ میں قرآن پڑھ چکا ہوں؟!“ پھر وہ کہے گا: ”لوگ اس وقت تک میری پیروی نہیں کریں گے جب تک میں ان کے لیے قرآن کے علاوہ کوئی نئی چیز (بدعت) ایجاد نہ کر لوں“، پس تم اپنے خود ساختہ نئے کاموں (بدعات) سے بچو، کیونکہ ہر ایجاد کردہ نئی بات گمراہی ہے۔ اور دانا (حکیم) کی لغزش سے بچو، کیونکہ شیطان دانا شخص کی زبان پر گمراہی کی بات ڈال دیتا ہے، جبکہ کبھی منافق کی زبان پر حق کی بات جاری کر دیتا ہے، (یزید بن عمیرہ کہتے ہیں کہ) ہم نے عرض کیا: (اے معاذ!) اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ کو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ منافق حق بات کہہ رہا ہے اور شیطان نے دانا شخص کی زبان پر گمراہی کی بات ڈال دی ہے؟ انہوں نے فرمایا: دانا شخص کی کلام میں سے ہر اس مشتبہ (الجھن والی) بات سے بچو جسے سن کر تم پکار اٹھو کہ ”یہ کیسی بات ہے؟“ لیکن (صرف اس لغزش کی وجہ سے) تم اس دانا شخص سے بالکل منہ نہ موڑو، کیونکہ بہت ممکن ہے کہ وہ اپنی اس بات سے رجوع کر لے اور اسے دوبارہ حق کی توفیق مل جائے، پس تم حق بات کو سنو کیونکہ حق پر ایک نور ہوتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: بریکٹ [ ] کے درمیان والی عبارت نسخہ (ك)، (م) اور (ب) میں نہیں ہے، ہم نے اسے ذہبی کی "التلخیص" سے ثابت کیا ہے تاکہ معمر کی "الجامع" (20750) کے موافق ہو جائے۔
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أبو داود (4611) من طريق الليث بن سعد، عن عُقيل بن خالد، عن ابن شهاب الزهري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4611) نے لیث بن سعد کے طریق سے عقیل بن خالد سے، انہوں نے ابن شہاب زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي بأطول ممّا هنا برقم (8646) من طريق أبي قلابة عن يزيد بن عميرة.
تفصیلِ روایت: یہ روایت یہاں موجود متن سے زیادہ تفصیل کے ساتھ آگے نمبر (8646) پر ابوقلابہ عن یزید بن عمیرہ کے طریق سے آئے گی۔