حدیث نمبر: 8609
أخبرني محمد بن علي الصنعاني بمكة حرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزهري، عن عُروة بن الزبير، عن كُرْز بن علقمة الخُزاعي قال: قال أعرابي: يا رسول الله، هل للإسلام منتهى؟ قال: "نعم، أيُّما أهل بيتٍ من العرب والعجم أراد الله بهم خيرًا، أدخل عليهم الإسلام" قالوا: ثم ماذا يا رسول الله؟ قال: "ثم تقعُ فتنٌ كأنها الظُّلل" قال: فقال أعرابي: كلَّا يا رسول الله! فقال النبي ﷺ: "والذي نفسي بيده، لَتَعودُنَّ فيها أَساوِدَ صُبًّا، يَضربُ بعضكم رقاب بعض" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، عرب و عجم کا جو بھی گھرانہ ایسا ہو جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرمائے، ان میں اسلام داخل کر دیتا ہے،“ صحابہ نے پوچھا: پھر کیا ہوگا یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ایسے فتنے برپا ہوں گے گویا وہ سیاہ بادلوں کے سائے ہوں،“ اس اعرابی نے (حیرت سے) کہا: ہرگز نہیں یا رسول اللہ! تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم ان فتنوں میں ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑنے والے ان سیاہ سانپوں کی طرح ہو جاؤ گے جو سر اٹھا کر حملہ کرتے ہیں، کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں ماریں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8609
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8609] [ترقيم الشركة 8505]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن عبّاد الدَّبَري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی کی تعیین: اسحاق بن ابراہیم سے مراد ابن عباد الدبری ہیں۔
وأخرجه أحمد 25/ (15918) عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
تخریج: اسے احمد 25/ (15918) نے عبد الرزاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (15919)، وابن حبان (5956) من طريق عبد الواحد بن قيس، عن عروة، به - وزاد في آخره: "وأفضل الناس يومئذٍ مؤمن معتزل في شعب من الشعاب، يتقي ربَّه، ويدع الناس من شره".
تخریج: اسے احمد (15919) اور ابن حبان (5956) نے عبد الواحد بن قیس عن عروہ کے طریق سے روایت کیا ہے، اور آخر میں یہ اضافہ کیا ہے: "اس دن بہترین انسان وہ مومن ہوگا جو کسی گھاٹی میں گوشہ نشین ہو، اپنے رب سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔"
وقد سلف الحديث مختصرًا برقم (96) و (97).
حوالہ: یہ حدیث مختصر طور پر نمبر (96) اور (97) پر گزر چکی ہے۔
قوله: "أساود صُبًّا" أي: حيات عظيمة إذا أرادت أن تنهش أو تلدغ رفعت صدورها ثم انصبت على الملدوغ، وهذا من باب التشبيه.
لغوی تحقیق: "أساود صُبًّا" سے مراد بڑے سانپ ہیں، جب وہ ڈسنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اپنے سینے اٹھاتے ہیں اور پھر ڈسے جانے والے پر گر پڑتے (ٹوٹ پڑتے) ہیں؛ یہ تشبیہ کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
(2) زاد في (ب): بهذه السياقة، وليست في (ك) و (م).
نسخوں کا اختلاف: نسخہ (ب) میں "بِہذہِ السیاقۃ" (اس سیاق کے ساتھ) کا اضافہ ہے، جو نسخہ (ک) اور (م) میں نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8609 سے ماخوذ ہے۔