حدیث نمبر: 860
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن أبي عُشَّانةَ، أنه سمع عُقْبةَ بن عامر الجُهَني يحدِّث عن رسول الله ﷺ أنه قال: "إذا تَطهَّرَ الرجلُ، ثم مرَّ إلى المسجد فيَرعَى الصلاةَ، كَتَبَ له كاتبُه - أو كاتباه - بكلِّ خَطْوةٍ يَخطُوها إلى المسجد عشرَ حَسَنات، والقاعدُ يَرعَى الصلاةَ كالقانت، ويُكتَبُ من المصلِّين من حينِ يخرجُ من بيتِه حتى يَرجِعَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 766 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص پاکیزگی حاصل کر کے مسجد کی طرف جاتا ہے اور نماز کا انتظار کرتا ہے، تو اس کے کاتبین (فرشتے) اس کے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھتے ہیں، اور نماز کا انتظار کرنے والا تسبیح پڑھنے والے (عبادت گزار) کے مانند ہے، اور وہ اپنے گھر سے نکلنے کے وقت سے واپسی تک نمازیوں ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 860
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو عُشَّانة: هو حي بن يُومن المَعَافري» [ترقيم الرساله 860] [ترقيم الشركة 771] [ترقيم العلميه 766]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو عُشَّانة: هو حي بن يُومن المَعَافري.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابوعشانہ سے مراد حی بن یومن المعافری ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (2038) و (2045) من طريق حرملة بن يحيى، عن ابن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2038، 2045) نے حرملہ بن یحییٰ عن ابن وہب کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17460) من طريق ابن لهيعة، عن عمرو بن الحارث، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (17460 /28) نے ابن لہیعہ عن عمرو بن الحارث کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا (17440) من طريق ابن لهيعة عن أبي عشانة، و (17459) من طريق ابن لهيعة، عن أبي قَبيل، عن أبي عشانة، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے نمبر (17440) پر ابن لہیعہ عن ابی عشانہ، اور نمبر (17459) پر ابن لہیعہ عن ابی قبیل عن ابی عشانہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: "يَرعَى الصلاةَ" أي: يريدها.
(توضیح): "یَرعَى الصلاةَ" کا مطلب ہے: وہ نماز کا ارادہ رکھتا ہے (اس کا انتظار کرتا ہے)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 860 سے ماخوذ ہے۔