حدیث نمبر: 8533
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إبراهيم بن الحسين الهَمَذاني، حدثنا عمرو (1) بن عاصم الكِلابي، حدثنا أبو العوَّام القطَّان، حدثنا قَتَادة، عن أبي الخليل، عن عبد الله بن الحارث، عن أم سَلمة قالت: قال رسول الله ﷺ: "يُبايِعُ لرجلٍ من أمتي بين الرُّكْن والمَقام كعِدَّة أهل بَدر، فيأتيه عُصَبُ العراق وأبدالُ الشام، فيأتيهم جيشٌ من الشام، حتى إذا كانوا بالبَيداءِ خُسِفَ بهم، ثم يسير إليه رجلٌ من قريش أخواله كَلْبٌ، فيَهزِمُهم الله". قال: وكان يقال: إِنَّ الخائبَ يومئذٍ مَن خاب من غَنيمةِ كَلْب (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8328 - أبوالعوام عمران ضعفه غير واحد وكان خارجيا
حافظ طلحہ بابر

ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے ایک شخص کے ہاتھ پر رکن (اسود) اور مقام (ابراہیم) کے درمیان بیعت کی جائے گی جن کی تعداد اصحابِ بدر کے برابر ہوگی، پھر ان کے پاس عراق کی جماعتیں اور شام کے ابدال آئیں گے، تو ان کی طرف شام سے ایک لشکر آئے گا، یہاں تک کہ جب وہ زمین کے چٹیل میدان (بیداء) میں ہوں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا، پھر قریش کا ایک شخص ان کی طرف نکلے گا جس کے ننھیال قبیلہ «كلب» (کلب) سے ہوں گے، پس اللہ انہیں شکست دے گا۔“ راوی کہتے ہیں: یہ کہا جاتا تھا کہ اس دن اصل محروم وہ ہے جو قبیلہ کلب کی غنیمت سے محروم رہ گیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8533
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لاضطرابه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على قتادة كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" 44 / (26689)» [ترقيم الرساله 8533] [ترقيم الشركة 8430] [ترقيم العلميه 8328]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عمر، بلا واو، والتصويب من "إتحاف المهرة" (23434).
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عمر" (بغیر واؤ کے) ہو گیا ہے، جبکہ درستگی "اتحاف المہرۃ" (23434) سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على قتادة كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" 44 / (26689). أبو العوام القطان: هو عمران بن داوَر، وهو ليس بذاك الثقة وبخاصة إذا خولف، أبو الخليل: هو صالح بن أبي مريم.
درجۂ حدیث: اس کی سند "اضطراب" کی وجہ سے ضعیف ہے؛ کیونکہ اس میں قتادہ پر اختلاف کیا گیا ہے جیسا کہ "مسند احمد" (44/ 26689) کی تعلیق میں بیان کیا گیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: "ابو العوام القطان" سے مراد عمران بن داور ہیں، جو زیادہ ثقہ نہیں ہیں خاص طور پر جب ان کی مخالفت کی جائے۔ "ابو الخلیل" سے مراد صالح بن ابی مریم ہیں۔
وأخرجه أبو داود (4288) عن محمد بن المثنى، عن عمرو بن عاصم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4288) نے محمد بن مثنیٰ، عن عمرو بن عاصم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 44 / (26689)، وأبو داود (4286) من طريق هشام الدستُوائي، وأبو داود (4287) من طريق همام، كلاهما عن قتادة، عن أبي الخليل، عن صاحب له لم يسمِّه، عن أم سلمة.
حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح احمد (44/ 26689) اور ابوداؤد (4286) نے ہشام دستوائی کے طریق سے، اور ابوداؤد (4287) نے ہمام کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ دونوں قتادہ سے، وہ ابو الخلیل سے، وہ اپنے ایک ساتھی سے (جس کا نام نہیں لیا) اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8533 سے ماخوذ ہے۔