المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - : " سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى بِضْعٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً " باب: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع، حدثنا صفوان بن عمرو، حدثنا سُليم بن عامر، عن تَميم الدَّارِي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "ليَبْلُغَنَّ هذا الأمرُ مبلغَ الليلِ والنهار، ولا يَتْركُ الُله بيتَ مَدَرٍ ولا وَبَرٍ إلَّا أدخله هذا الدَّينَ، بعِزِّ عزيز أو بذُلِّ ذليل، بعِزٍّ يُعِزُّ الله في الإسلام، ويُذِلُّ به الكفرَ". وكان تميمٌ الدارِيُّ يقول: قد عرفتُ ذلك في أهل بيتي، لقد أصاب مَن أسلم منهم الخيرَ والشرفَ والعزَّ، ولقد أصاب من كان كافرًا الذلَّ والصَّغَارَ والجِزيةَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8326 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً یہ معاملہ (دینِ اسلام) وہاں تک پہنچ کر رہے گا جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ مٹی کے کسی گھر یا اون کے کسی خیمے کو نہیں چھوڑے گا مگر اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت والے کی عزت کے ساتھ یا ذلیل ہونے والے کی ذلت کے ساتھ؛ ایسی عزت جس کے ذریعے اللہ اسلام کو سربلندی عطا فرمائے گا اور ایسی ذلت جس کے ذریعے وہ کفر کو رسوا کر دے گا۔“ اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: میں نے اس بات (کے سچ ہونے) کو اپنے گھر والوں میں جان لیا ہے، کیونکہ ان میں سے جو مسلمان ہوئے انہیں خیر، شرف اور عزت نصیب ہوئی، اور جو کافر رہے انہیں ذلت، رسوائی اور جزیہ کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (16957) عن أبي المغيرة عبد القدوس بن الحجاج، عن صفوان بن عمرو، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (28 / 16957) نے ابو المغیرہ عبد القدوس بن حجاج سے، انہوں نے صفوان بن عمرو سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما سبق برقم (8529).
نوٹ / توضیح: پیچھے گزری ہوئی حدیث نمبر (8529) ملاحظہ کریں۔