حدیث نمبر: 8507
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن (1) خُثَيم، عن عبد الرحمن بن سابِطٍ، عن جابر بن عبد الله: أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال لكعب بن عُجْرة: "أعاذَك اللهُ يا كعبُ من إمارةِ السُّفهاء" قال: وما إمارةُ السفهاءِ يا رسول الله؟ قال: "أمراءُ يكونون بعدي لا يَهدُون بهَدْيي، ولا يَستَنُّون بسُنَّتي، فمن صدَّقهم بكَذِبهم، وأعانَهم على ظُلمِهم، فأولئك ليسوا منِّي ولست منهم، ولا يَرِدُون عليَّ حوضي، ومن لم يصدِّقْهم بكذبِهم، ولم يُعِنْهم على ظُلمِهم، فأولئك مني وأنا منهم، وسَيرِدُون عليَّ حوضي. يا كعبَ بن عُجْرة، الصَّومُ جُنَّة، والصدقةُ تُطفِئُ الخطيئة، والصلاةُ قُرْبان، أو قال: بُرْهان. يا كعبَ بنَ عُجْرة، لا يَدخلُ الجنةَ لحمٌ نَبَتَ من سُحْت أبدًا، النَّارُ أَولى به. يا كعبَ بنَ عُجْرة، الناسُ غاديَانِ: فمبتاعٌ نَفْسَه فمُعتِقُها، أو بائعُها فَمُوبِقها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8302 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے کعب! اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے اپنی پناہ میں رکھے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بیوقوفوں کی حکمرانی سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نہ میری ہدایت پر چلیں گے اور نہ میری سنت کی پیروی کریں گے، پس جس نے ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو ایسے لوگ نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں، اور وہ میرے حوض پر نہیں آ سکیں گے، اور جس نے ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، اور وہ میرے حوض پر ضرور وارد ہوں گے۔ اے کعب بن عجرہ! روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور نماز قرب الٰہی کا ذریعہ ہے (یا آپ ﷺ نے فرمایا: دلیل و برہان ہے)۔ اے کعب بن عجرہ! وہ گوشت کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا جو حرام مال «سُحْت» سے پلا ہو، اس کے لیے تو آگ ہی زیادہ بہتر ہے۔ اے کعب بن عجرہ! لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو اپنی جان کا سودا کر کے اسے (اللہ کی اطاعت سے) آزاد کرا لیتا ہے، اور دوسرا وہ جو اپنی جان کو (شیطان کے ہاتھ) بیچ کر اسے ہلاک کر لیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8507
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي من أجل ابن خثيم وهو عبد الله بن عثمان بن خثيم» [ترقيم الرساله 8507] [ترقيم الشركة 8404] [ترقيم العلميه 8302]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: أبي.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "ابی" بن گیا ہے۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي من أجل ابن خثيم وهو عبد الله بن عثمان بن خثيم.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ سند "ابن خثیم" (عبد اللہ بن عثمان بن خثیم) کی وجہ سے قوی ہے۔
وقد سلف برقم (268) من طريق أحمد بن حنبل عن عبد الرزاق.
نوٹ / توضیح: یہ روایت نمبر (268) کے تحت احمد بن حنبل عن عبد الرزاق کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8507 سے ماخوذ ہے۔