المستدرك على الصحيحين
كتاب تعبير الرؤيا— خوابوں کی تعبیروں کا بیان
أَسْمَاءُ نُجُومٍ رَآهَا يُوسُفُ فِي مَنَامِهِ باب: ان ستاروں کے نام جو سیدنا یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھے تھے
حدیث نمبر: 8397
فحدّثنا أبو النَّضْر الفقيه وأبو الحسن العَنَزيُّ، قالا: حَدَّثَنَا مُعاذ بن نَجْدةَ القُرشي، حَدَّثَنَا قَبيصة بن عُقبة، حَدَّثَنَا سفيان، عن سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس: ﴿إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا﴾ [يوسف: 4]، قال: كانت رؤيا الأنبياء وَحْيًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8197 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا﴾ [سورة يوسف: 4] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: انبیاء کے خواب وحی ہوا کرتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل سماك بن حرب. سفيان: هو الثوري. وقد سلف بنحوه من طريقه برقم (3655).
درجۂ حدیث: (1) یہ سند سماک بن حرب کی وجہ سے "حسن" ہے۔ فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد "ثوری" ہیں۔ یہ روایت اسی طرح ان کے طریق سے نمبر (3655) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: (1) یہ سند سماک بن حرب کی وجہ سے "حسن" ہے۔ فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد "ثوری" ہیں۔ یہ روایت اسی طرح ان کے طریق سے نمبر (3655) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8397 سے ماخوذ ہے۔