حدیث نمبر: 8360
أخبرنا أبو العباس المحبوبي، حدَّثنا سعيدٌ بن مسعود، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا همَّام بن يحيى، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، قال: حدثني شَيْبة الحَضْرمي، عن عُرْوة، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ثلاثٌ أحلِفُ عليهنَّ، والرابعُ لو حَلَفتُ عليه لرَجَوتُ أن لا أثَمَ: لا يجعلُ الله عبدًا له سهمٌ في الإسلام كمن لا سهمَ له، ولا يتولَّى الله عبدٌ في الدنيا فيُولِّيَه غيرَه يومَ القيامة، ولا يحبُّ رجلٌ قومًا إِلَّا كان معهم أو منهم، والرابعةُ لو حلفتُ عليها لرَجَوتُ أن لا أَثَمَ: لا يَسْتُرُ اللهُ على عبدٍ في الدنيا إلَّا سَتَرَ الله عليه في الآخرة". قال: فحَدّثتُ به عمرَ بن عبد العزيز، فقال عمر: إذا سمعتُم مثلَ هذا الحديث عن عُرُوة عن عائشة عن رسول الله ﷺ، فاحفَظُوه واحتفِظُوا به (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8161 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین باتیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں، اور چوتھی بات ایسی ہے کہ اگر میں اس پر بھی قسم کھاؤں تو مجھے امید ہے کہ میں گناہ گار نہیں ہوں گا: اللہ تعالیٰ ایسے بندے کو جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو اس شخص کی طرح نہیں کرے گا جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہ ہو، اور اللہ تعالیٰ جس بندے کا دنیا میں سرپرست بن جائے، قیامت کے دن اسے کسی اور کے حوالے نہیں کرے گا، اور کوئی شخص جس قوم سے محبت کرتا ہے وہ انہی کے ساتھ یا انہی میں سے ہو گا، اور چوتھی بات جس پر اگر میں قسم کھاؤں تو امید ہے کہ گناہ گار نہیں ہوں گا وہ یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ دنیا میں جس بندے کی پردہ پوشی فرماتا ہے، آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو سنائی تو انہوں نے فرمایا: جب تم عروہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی ایسی حدیث سنو تو اسے حفظ کر لو اور اس کی حفاظت کرو۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8360
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح بطرقه وشواهده
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل شيبة الحضرمي، وقد سلف برقم (49)» [ترقيم الرساله 8360] [ترقيم الشركة 8261] [ترقيم العلميه 8161]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل شيبة الحضرمي، وقد سلف برقم (49).
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث اپنے طرق اور شواہد کی بنا پر صحیح ہے، جبکہ یہ سند شیبہ الحضرمی کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے۔ شیبہ کا ذکر نمبر (49) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8360 سے ماخوذ ہے۔