حدیث نمبر: 82
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا محمد بن أبي بكر المقدَّمي، حدثنا فُضَيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عُقْبة، حدثني إسحاق بن يحيى، عن عُبادة بن الصامت قال: قال رسول الله ﷺ: "أنا سيِّدُ الناس يومَ القيامة ولا فَخْر، ما من أحدٍ إلَّا وهو تحت لِوائي يومَ القيامة ينتظرُ الفَرَج، وإنَّ معي لواءَ الحمد، أنا أَمشي ويمشي الناسُ معي حتى آتيَ بابَ الجنة فأَستفتحَ فيقال: مَن هذا؟ فأقول: محمَّدٌ، فيقال: مرحبًا بمحمَّدٍ، فإذا رأيتُ ربِّي خَرَرتُ له ساجدًا أنظُرُ إليه" (1).
هذا حديث كبير في الصفات والرُّؤية، صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 82 - على شرطهما ولم يخرجاه
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں (بلکہ حقیقت کا بیان ہے)، قیامت کے دن کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو تنگی سے چھٹکارے کی امید میں میرے جھنڈے کے نیچے نہ ہو، اور میرے پاس حمد کا جھنڈا (لواء الحمد) ہوگا، میں چلوں گا اور لوگ میرے ساتھ چلیں گے یہاں تک کہ میں جنت کے دروازے پر آکر اسے کھلواؤں گا، پوچھا جائے گا: یہ کون ہے؟ میں کہوں گا: محمد (ﷺ)، تو کہا جائے گا: محمد (ﷺ) کو خوش آمدید، پھر جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو اس کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا اور اس کا دیدار کروں گا۔“
یہ (اللہ کی) صفات اور دیدارِ الٰہی کے بارے میں ایک عظیم حدیث ہے، جو شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 82
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة إسحاق بن يحيى - وهو ابن الوليد بن عبادة بن الصامت
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة إسحاق بن يحيى - وهو ابن الوليد بن عبادة بن الصامت ، ثم إنه لم يدرك جدَّ أبيه عبادة، فهو منقطع، كما أنَّ فضيل بن سليمان ليس بذاك القوي-» [ترقيم الرساله 82] [ترقيم الشركة 82] [ترقيم العلميه 82]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لجهالة إسحاق بن يحيى - وهو ابن الوليد بن عبادة بن الصامت - ثم إنه لم يدرك جدَّ أبيه عبادة، فهو منقطع، كما أنَّ فضيل بن سليمان ليس بذاك القوي.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ اسحاق بن یحییٰ (بن ولید بن عبادہ بن صامت) کا مجہول ہونا ہے، مزید یہ کہ انہوں نے اپنے پردادا حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا، اس لیے یہ سند "منقطع" ہے۔ نیز فضیل بن سلیمان بھی زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔
وأخرجه أبو منصور الديلمي في "مسند الفردوس" كما في "الغرائب الملتقطة" (936) من طريق الحاكم بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابومنصور دیلمی نے "مسند الفردوس" (الغریب الملتقطہ: 936) میں امام حاکم ہی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وعزاه الهيثمي في "المجمع" 10/ 376 للطبراني، وهو عنده بنحوه، وقال: وإسحاق بن يحيى لم يدرك عبادة.
حوالہ / مصدر: علامہ ہیثمی نے "مجمع الزوائد" (10/376) میں اسے امام طبرانی کی طرف منسوب کیا ہے اور ان کے ہاں یہ اسی طرح مروی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: علامہ ہیثمی نے بھی صراحت کی ہے کہ اسحاق بن یحییٰ کا حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
وانظر حديث أبي هريرة الطويل في الشفاعة عند البخاري (4712) ومسلم (194).
متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی شفاعت سے متعلق طویل حدیث صحیح بخاری (4712) اور صحیح مسلم (194) میں ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 82 سے ماخوذ ہے۔