حدیث نمبر: 7975
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن درَّاج أبي السَّمْح، عن السائب: أنَّ نِساءٌ دَخَلْنَ على أم سلمة زوج النبي، فسألتهنَّ: مَن أنتنَّ؟ قُلْنَ: من أهل حمص قالت من أصحاب الحَمَّامات؟ قُلنَ: وبها بأسٌ؟ قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "أيما امرأةٍ نَزَعَتْ ثيابَها في غير بيتِها، خَرَقَ الله تعالى عنها سِتْرَه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7782 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سائب سے روایت ہے کہ کچھ خواتین ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ عرض کیا: اہل حمص سے، پوچھا: کیا تم حماموں والی ہو؟ انہوں نے پوچھا: کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”جس عورت نے اپنے گھر کے سوا کہیں اور اپنے کپڑے اتارے، اللہ تعالیٰ اس سے اپنا پردہ ہٹا لیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7975
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة السائب وهو مولى أم سلمة، فقد تفرد بالرواية عنه درّاج أبو السمح، ودراج ليس بذاك القوي، والمحفوظ في هذه القصة حديث عائشة السابق» [ترقيم الرساله 7975] [ترقيم الشركة 7881] [ترقيم العلميه 7782]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة السائب وهو مولى أم سلمة، فقد تفرد بالرواية عنه درّاج أبو السمح، ودراج ليس بذاك القوي، والمحفوظ في هذه القصة حديث عائشة السابق.
درجۂ حدیث: صحیح لغیرہ۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی سند "سائب" (مولیٰ ام سلمہ) کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ان سے روایت کرنے میں دراج ابو السمح منفرد ہیں، اور دراج خود بھی اتنے قوی راوی نہیں ہیں۔
اہم نکتہ: اس قصے میں "محفوظ" (صحیح ترین) روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔
وأخرجه أحمد 44 / (26569) من طريق ابن لهيعة عن دراج، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (44/ 26569) میں ابن لہیعہ کے طریق سے دراج کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7975 سے ماخوذ ہے۔