المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
النَّهْيُ عِنْدَ انْقِضَاضِ النَّجْمِ عَنْ رُؤْيَتِهِ . باب: ستارہ ٹوٹتے وقت اس کی طرف دیکھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7966
أخبرنا محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أيوب، عن ابن سيرين قال: تعشَّينا مع أبي قتادة فوق ظهر بيتٍ لنا، فانقضَّ نجم فأتبعناه أبصارنا، فنهانا، وقال: لا تُتبعوه أبصاركم، فإنَّا كُنَّا نُنهى عن ذلك (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7773 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ابوقتیادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے گھر کی چھت پر رات کا کھانا کھایا، اچانک ایک ستارہ ٹوٹ کر گرا تو ہم اسے دیکھنے لگے، انہوں نے ہمیں اس سے منع فرمایا اور کہا: ستارے کو ٹوٹتا ہوا نہ دیکھا کرو، ہمیں اس سے منع کیا جاتا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أيوب: هو السختياني، وابن سِيرِين: هو محمد. وهو في "جامع معمر" (20007).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہاں راوی ایوب سے مراد ایوب السختیانی اور ابن سیرین سے مراد محمد بن سیرین ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت "جامع معمر" (20007) میں موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 37 / (22549) من طريق هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرِين، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (37/ 22549) نے ہشام بن حسان کے طریق سے محمد بن سیرین کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
انقضَّ: سقط بسرعة.
نوٹ / توضیح: لفظ "انقضّ" کا معنی ہے: بڑی تیزی سے گرنا یا ٹوٹ پڑنا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہاں راوی ایوب سے مراد ایوب السختیانی اور ابن سیرین سے مراد محمد بن سیرین ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت "جامع معمر" (20007) میں موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 37 / (22549) من طريق هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرِين، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (37/ 22549) نے ہشام بن حسان کے طریق سے محمد بن سیرین کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
انقضَّ: سقط بسرعة.
نوٹ / توضیح: لفظ "انقضّ" کا معنی ہے: بڑی تیزی سے گرنا یا ٹوٹ پڑنا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7966 سے ماخوذ ہے۔