حدیث نمبر: 7918
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلَّاب بهَمَذان، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرازي، حَدَّثَنَا سعيد بن مروان الرُّهَاوي (2)، حَدَّثَنَا عصام بن بَشير، حدثني أبي، قال: وَفَّدَني قومي بنو الحارث بن كعب إلى النَّبِيّ ﷺ، فلما أتيته قال لي: "مَرحَبًا، ما اسمك؟ ": قلت: كثيرٌ، قال: "بل أنت بَشيرٌ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7725 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

عصام بن بشیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میری قوم بنو حارث بن کعب نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف وفد بنا کر بھیجا، جب میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا: ”خوش آمدید، تمہارا نام کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: کثیر، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم بشیر (خوشخبری دینے والے) ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7918
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل عصام بن بشير
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عصام بن بشير، فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"» [ترقيم الرساله 7918] [ترقيم الشركة 7824] [ترقيم العلميه 7725]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى الزهراني.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف (کتابت کی غلطی) ہوئی ہے اور لفظ "الزهراني" لکھ دیا گیا ہے (جو کہ اصل کے خلاف ہے)۔
(3) إسناده حسن من أجل عصام بن بشير، فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات".
درجۂ حدیث: عصام بن بشیر کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی عصام بن بشیر سے محدثین کی ایک جماعت نے روایت لی ہے اور امام ابن حبان نے انہیں اپنی کتاب "الثقات" میں ذکر کیا ہے، جو ان کی توثیق کی دلیل ہے۔
وأخرجه النسائي (10072) عن أحمد بن سليمان، عن سعيد بن مروان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (10072) نے احمد بن سلیمان عن سعید بن مروان کی سند سے اسی سابقہ اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7918 سے ماخوذ ہے۔