المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا . باب: بہترین مجلسیں وہ ہیں جو کشادہ ہوں
حدیث نمبر: 7898
حدثني علي بن حَمْشاذ، حَدَّثَنَا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حَدَّثَنَا مُعلَّى بن منصور الرازي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن أبي المَوَال، عن عبد الرحمن بن أبي عَمْرة: أنَّ أبا سعيد الخُدْري أُوذِنَ بجنازةٍ في قومه، فجاء وقد أخذَ الناسُ مجالسَهم، فلما رأَوه تسرَّبُوا إليه فجَلسُوا في ناحية، وقال: إنَّ رسول الله ﷺ قال: "خيرُ المجالس أوسعُها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7705 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد الرحمن بن ابی عمرہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو ان کی قوم میں ایک جنازے کی اطلاع دی گئی، وہ تشریف لائے تو لوگ اپنی اپنی نشستیں سنبھال چکے تھے، جب لوگوں نے انہیں دیکھا تو وہ سمٹ کر ایک طرف ہو گئے (تاکہ ان کے لیے جگہ بن سکے) اور وہ ایک گوشے میں بیٹھ گئے، پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”بہترین مجلسیں وہ ہیں جو سب سے زیادہ کشادہ ہوں۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن أبي عمرة: هو عبد الرحمن بن عمرو بن أبي عمرة كما سمّاه أبو داود وابن حبان، وسمّاه عبد البر في "التمهيد" 20/ 25 - وتابعه ابن حجر في "التقريب" - عبدَ الرحمن بن عبد الله بن أبي عمرة، وهذا لم يدرك أحدًا من الصحابة، ووهمَ المزيُّ فظنَّه عبد الرحمن بن أبي عمرة الذي اختُلف في صحبته، وهو عمُّ هذا، لذلك وهَّمه ابن حجر في "التهذيب" فقال: ما ادّعاه المؤلف (يعني المزي) من أنَّ عبد الرحمن بن أبي الموال روى عنه ليس بشيء، وإنما روى عن ابن أخيه.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی عبد الرحمن بن ابی عمرہ کا نام دراصل عبد الرحمن بن عمرو بن ابی عمرہ ہے جیسا کہ ابو داود اور ابن حبان نے صراحت کی ہے۔ امام عبد البر اور حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ عبد الرحمن بن عبد اللہ بن ابی عمرہ ہیں، جنہوں نے کسی صحابی کو نہیں پایا۔
اہم نکتہ: امام مزی سے یہاں وہم ہوا ہے کہ انہوں نے اسے وہ 'عبد الرحمن بن ابی عمرہ' سمجھ لیا جن کی صحابیت میں اختلاف ہے (جو کہ ان کے چچا ہیں)۔ ابن حجر نے 'تہذیب' میں اس کی تصحیح کی ہے کہ عبد الرحمن بن ابی الموال نے چچا سے نہیں بلکہ بھتیجے سے روایت کی ہے۔
وأخرجه أحمد (17/ 11137) و (18/ 11663)، وأبو داود (4820) من طرق عن عبد الرحمن بن أبي الموالي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17/ 11137 اور 18/ 11663) اور امام ابو داود (4820) نے عبد الرحمن بن ابی الموالی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی عبد الرحمن بن ابی عمرہ کا نام دراصل عبد الرحمن بن عمرو بن ابی عمرہ ہے جیسا کہ ابو داود اور ابن حبان نے صراحت کی ہے۔ امام عبد البر اور حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ عبد الرحمن بن عبد اللہ بن ابی عمرہ ہیں، جنہوں نے کسی صحابی کو نہیں پایا۔
اہم نکتہ: امام مزی سے یہاں وہم ہوا ہے کہ انہوں نے اسے وہ 'عبد الرحمن بن ابی عمرہ' سمجھ لیا جن کی صحابیت میں اختلاف ہے (جو کہ ان کے چچا ہیں)۔ ابن حجر نے 'تہذیب' میں اس کی تصحیح کی ہے کہ عبد الرحمن بن ابی الموال نے چچا سے نہیں بلکہ بھتیجے سے روایت کی ہے۔
وأخرجه أحمد (17/ 11137) و (18/ 11663)، وأبو داود (4820) من طرق عن عبد الرحمن بن أبي الموالي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17/ 11137 اور 18/ 11663) اور امام ابو داود (4820) نے عبد الرحمن بن ابی الموالی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7898 سے ماخوذ ہے۔