المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
ذِكْرُ مَا اخْتَارَهُ فُقَهَاءُ أَهْلِ الْكُوفَةِ فِي جَوَابِ الْعَاطِسِ . باب: چھینک کے جواب میں فقہائے کوفہ کے پسندیدہ کلمات کا تذکرہ
فأخبرَناه محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حَدَّثَنَا أبو نُعيم وقَبيصة، قالا: حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا حَكيم بن الدَّيلم، حَدَّثَنَا أبو بُرْدة، حَدَّثَنَا أبو موسى قال: كان اليهودُ يَتعاطَسُون عند النَّبِيِّ ﷺ يَرجُونَ أن يقولَ لهم: يَرحمُكم الله، وكان يقول لهم: "يَهدِيكم الله ويُصلِحُ بالَكم" (1).
هذا حديث متّصل الإسناد، وهذا الخبرُ ليس بخلاف الأخبار المأثورةِ الصحيحةِ المتفقِ عليها في الجامعين الصحيحين للإمامين محمِّد بن إسماعيل ومسلم بن الحجَّاج، لأنَّ من السُّنن الصحيحة أن يقولَ المسلمُ لأخيه العاطس: يرحمُك الله، فيجيبُه بأن يقول: يَهدِيكم الله ويُصلِحُ بالكم. وكان ﷺ يقول لليهود إذا عطسوا: "يَهدِيكم الله ويُصلحُ بالكم" بدلَ ما أمرَ ﷺ أن يُقال للمسلم إذا عطس: يرحمُكم الله. فالمحتجُّ بذلك ليس يُميِّز بين العاطس والمُشمِّت، وقد دعا النبيُّ ﷺ لنفسه وللمسلمين بالهداية في أخبارٍ كثيرة يطولُ شرحُها في هذا الموضع، وقد أمرَ النَّبِيُّ ﷺ خليلَه وصفيَّه وخَتَنَه عليَّ بن أبي طالب ﵁ أن يسأل الله الهدايةَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7699 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس (جان بوجھ کر) چھینکتے تھے اور اس بات کی امید رکھتے تھے کہ آپ ﷺ انہیں جواب میں «يَرْحَمُكُمُ اللهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ کہیں گے، لیکن آپ ﷺ انہیں (جواب میں) فرماتے تھے: ”«يَهْدِيكمُ اللهُ ويُصلِحُ بَالَكُمْ» ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے“۔“
یہ حدیث متصل الاسناد ہے اور یہ روایت ان صحیح اور متفق علیہ روایات کے خلاف نہیں ہے جو امام بخاری اور امام مسلم کی صحیحین میں موجود ہیں، کیونکہ صحیح سنت یہ ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کو «يَرْحَمُكَ اللهُ» کہے اور وہ جواب میں «يَهْدِيكمُ اللهُ ويُصلِحُ بَالَكُمْ» کہے، جبکہ آپ ﷺ یہودیوں کے لیے «يَرْحَمُكُمُ اللهُ» کے بجائے صرف ہدایت اور اصلاحِ حال کی دعا فرماتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راویوں کی تحقیق درج ذیل ہے: ابو نعیم سے مراد الفضل بن دکین ہیں، قبیصہ سے مراد قبیصہ بن عقبہ السوائی ہیں، سفیان سے مراد سفیان الثوری ہیں اور ابو بردہ سے مراد ابو بردہ بن ابی موسیٰ الاشعری ہیں۔
وأخرجه أحمد (32/ 19586) و (19684)، وأبو داود (5038)، والترمذي (2739)، والنسائي (9990) من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (32/ 19586 اور 19684)، امام ابو داود (5038)، امام ترمذی (2739) اور امام نسائی (9990) نے سفیان الثوری کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
قوله: "يتعاطسون" أي: يتكلَّفون العطاس.
مجموعی اصول / قاعدہ: لفظ "يتعاطسون" کا مطلب یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر یا تکلف کے ساتھ چھینکنے کی کوشش کرتے تھے۔