حدیث نمبر: 7868
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عَوف (2) الطائي، حَدَّثَنَا أبو المغيرة، حَدَّثَنَا سعيد بن سِنان، حدثتني أمُّ الشَّعثاء، عن أمِّ عِصمة العَوْصيّة - وكانت قد أدركَتْ رسولَ الله ﷺ قالت: قال رسول الله ﷺ: "ما مِن مسلمٍ يعملُ ذنبًا إلَّا وَقَفَ الملَكُ الموكَّلُ بإحصاءِ ذنوبِه ثلاثَ ساعاتٍ، فإن استغفرَ الله من ذنبه ذلك في شيء من تلك الساعات، لم يُوقِفْه عليه، ولم يُعذَّبْ يومَ القيامة" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7675 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

ام عصمہ عوصیہ رضی اللہ عنہا - جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا - سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بھی کوئی مسلمان گناہ کرتا ہے تو اس کے گناہ لکھنے پر مامور فرشتہ تین گھنٹے تک رکا رہتا ہے، پس اگر اس نے ان گھنٹوں میں سے کسی بھی لمحے اپنے اس گناہ پر اللہ سے معافی مانگ لی تو وہ فرشتہ اسے اس کے خلاف درج نہیں کرتا اور قیامت کے دن اسے اس پر عذاب نہیں دیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7868
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، سعيد بن سنان» [ترقيم الرساله 7868] [ترقيم الشركة 7774] [ترقيم العلميه 7675]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى عرق.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں تحریف کی وجہ سے یہ لفظ "عرق" ہو گیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف جدًّا، سعيد بن سنان - وهو الشامي - متروك، وأم الشعثاء لا تعرف. أبو المغيرة: هو عبد القدوس بن الحجاج الخَولاني.
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جداً" (انتہائی کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعیف ہونے کی وجہ راوی سعید بن سنان الشامی کا "متروک" ہونا ہے، جبکہ "ام الشعثاء" نامی راویہ بھی غیر معروف (نامعلوم) ہیں۔
نوٹ / توضیح: ابو المغیرہ سے مراد عبد القدوس بن الحجاج الخولانی ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (17) - وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (8003) - عن أحمد بن عبد الوهاب، وأبو الشيخ في "طبقات أصبهان" (964) - ومن طريقه الشجري في "أماليه" 1/ 200 - من طريق سلمة بن شبيب، كلاهما عن أبي المغيرة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (الاوسط 17)، ابو نعیم (معرفۃ الصحابہ 8003)، ابو الشیخ (طبقات اصبہان 964) اور شجری (امالی 1/ 200) نے ابو المغیرہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويغني عنه حديث أبي أمامة رفعه: "إِنَّ صاحب الشمال ليرفع القلم ست ساعات عن العبد المسلم المخطئ أو المسيء، فإن ندم واستغفر الله منها ألقاها، وإلّا كُتبت واحدة". أخرجه الطبراني في "الكبير" (7765)، وفي "مسند الشاميين" (526) و (1228)، وأبو نعيم في "الحلية" 6/ 124، والبيهقي في "شعب الإيمان" (6650) من طريق إسماعيل بن عياش، عن عاصم بن رجاء، عن عروة بن رويم، والطبراني في "الكبير" (7787)، وفي "مسند الشاميين" (4681) من طريق الوليد بن مسلم، عن ثور بن يزيد، كلاهما (عروة بن رويم وثور) عن القاسم بن عبد الرحمن، عن أبي أمامة. وسندهما يشد أحدهما الآخَر فيتقوّى الحديث ويَحسُن بهما. وله طريقان آخران عن القاسم لا يُفرح بهما، لذلك أعرضنا عنهما.
اہم نکتہ: ضعیف روایت کی جگہ حضرت ابو امامہؓ کی مرفوع حدیث کافی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: "بائیں طرف والا فرشتہ (گناہ لکھنے والا) خطا کار مسلمان سے چھ گھنٹے تک قلم اٹھائے رکھتا ہے، اگر وہ نادم ہو کر استغفار کر لے تو فرشتہ اسے گرا دیتا ہے، ورنہ ایک گناہ لکھ لیا جاتا ہے"۔
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (الکبیر 7765، مسند الشامیین 526)، ابو نعیم (الحلیہ 6/ 124) اور بیہقی (شعب الایمان 6650) نے مختلف اسناد سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: عروہ بن رویم اور ثور بن یزید کے دونوں طرق ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں جس سے یہ حدیث "حسن" کے درجے تک پہنچ جاتی ہے۔ دیگر دو طرق انتہائی کمزور ہونے کی وجہ سے نظر انداز کر دیے گئے۔
قوله: "لم يوقفه عليه" قال الشوكاني في شرح "تحفة الذاكرين": بالقاف بعدها فاء؛ أي: لم يطلعه عليه، هكذا في غالب النسخ، ووقع في نسخة بالعين المهملة بعد القاف، من التوقيع، أي: لم يكتبه عليه، وهذا أقوم معنى، لأنَّ إيقاف العبد عليه ليس له كبير معنى هاهنا. قلنا: وقع في مطبوع "معرفة الصحابة": لم يرفعه عليه.
فنی نکتہ / علّت: علامہ شوکانی "تحفۃ الذاکرین" کی شرح میں فرماتے ہیں کہ "لم یوقفہ" (قاف کے بعد فا) کا مطلب ہے "اسے آگاہ نہیں کیا"، اکثر نسخوں میں یہی ہے۔ لیکن ایک نسخے میں "لم یوقعہ" (عین کے ساتھ) ہے جس کا مطلب ہے "اسے نہیں لکھا"، اور یہی معنی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔
نوٹ / توضیح: "معرفۃ الصحابہ" کے مطبوعہ نسخے میں اس جگہ "لم یرفعہ علیہ" کے الفاظ درج ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7868 سے ماخوذ ہے۔