المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ ، سَبْعَةٌ مُغْلَقَةٌ وَبَابٌ مَفْتُوحٌ لِلتَّوْبَةِ . باب: جنت کے آٹھ دروازے ہیں، سات بند ہیں اور ایک دروازہ توبہ کے لیے کھلا ہے
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني الحافظ، حَدَّثَنَا أبو زكريا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي الشَّهيد، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن المبارك العَيْشي، حَدَّثَنَا فُضَيل (1) بن سليمان، حَدَّثَنَا موسى بن عُقبة، حدثني عبيد الله سَلمان (2) بن الأغرّ، عن أبيه، عن أبي الدرداء، عن رسول الله ﷺ قال: "كلُّ شيء تكلَّم به ابن آدم فإنه مكتوبٌ عليه، فإذا أخطأَ خطيئةً فأحبَّ أن يتوبَ إلى الله ﷿ فليأتِ بُقْعةً رفيعة (3) فليَمدُدْ يديه إلى الله، ثم يقول: اللهمَّ إني أتوبُ إليك منها أن لا أرجِعَ إليها أبدًا، فإنه يُغفَرُ له ما لم يَرجِعْ في عملِه ذلك" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7673 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم جو بھی بات کرتا ہے وہ اس کے خلاف لکھ لی جاتی ہے، پس اگر اس سے کوئی خطا ہو جائے اور وہ اللہ عزوجل کے حضور توبہ کرنا چاہے، تو اسے چاہیے کہ کسی بلند جگہ پر جائے اور اپنے دونوں ہاتھ اللہ کی طرف پھیلا کر یہ کہے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْهَا أَنْ لَا أَرْجِعَ إِلَيْهَا أَبَدًا» ”اے اللہ! میں اس گناہ سے تیرے حضور ایسی توبہ کرتا ہوں کہ اب کبھی اس کی طرف نہیں لوٹوں گا“، تو اسے معاف کر دیا جاتا ہے جب تک کہ وہ اپنے اس عمل کی طرف دوبارہ رجوع نہ کرے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (م) میں لفظ کی تحریف (غلطی) ہوگئی ہے، جبکہ امام ذہبی کی "تلخیص" میں یہ درست درج ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: سليمان.
نوٹ / توضیح: نسخوں میں نام کی تحریف ہوئی ہے اور اسے "سلیمان" لکھ دیا گیا ہے۔
(3) تحرَّف في النسخ إلى: فليأت رفيقه، وجاء على الصواب في "تلخيص الذهبي".
نوٹ / توضیح: نسخوں میں عبارت "فلیات رفیقہ" تحریف شدہ ہے، جبکہ امام ذہبی کی "تلخیص" میں اسے درست کر دیا گیا ہے۔
(4) إسناده ضعيف من أجل فضيل بن سليمان النُّميري. وسلف برقم (1920).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعف کی وجہ راوی "فضیل بن سلیمان النُّمری" ہیں۔
حوالہ / مصدر: اس کی تفصیل پہلے حدیث نمبر 1920 کے تحت گزر چکی ہے۔