حدیث نمبر: 7859
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا هشام بن علي السَّدُوسي، حَدَّثَنَا ابن رجاء، حَدَّثَنَا حرب بن شداد، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي كثير، عن عبد الحميد بن سِنان، عن عُبيد بن عُمير، عن أبيه، أنه حدَّثه - وكانت له صُحبة - أنَّ رسول الله ﷺ قال في حَجَّة الوداع: "ألا إنَّ أولياء الله المصلُّون من يُقيم الصلواتِ (1) الخَمْسَ التي كُتِبْنَ عليه، ويصومُ رمضان يحتسبُ صومَه يرى أنَّه عليه حقٌّ، ويُعطي زكاةَ ماله يحتسبُها، ويجتنبُ الكبائرَ [التي نَهَى اللهُ عنها". ثمَّ إِنَّ رجلًا سأله، فقال: يا رسولَ الله، ما الكبائرُ؟] (2) فقال: "هو تِسعٌ: الشِّركُ (3) بالله، وقتلُ نفسِ المؤمن بغير حقٍّ، وفِرارٌ يومَ الزَّحف، وأكلُ مالِ اليتيم، وأكلُ الرِّبا، وقذفُ المُحصَنة، وعقوقُ الوالدينِ المسلمينِ، واستحلالُ البيتِ الحرام قِبلتكم أحياءً وأمواتًا". ثم قال: "لا يموتُ رجلٌ لم يَعمَلْ هذه الكبائرَ ويُقيمَ الصلاةَ ويُؤتيَ الزكاة، إلَّا كان مع النَّبِيِّ ﷺ في دارٍ أبوابُها مَصَاريعُ من ذَهَب" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7666 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبید بن عمیر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”آگاہ رہو! اللہ کے دوست وہ نمازی ہیں جو ان پانچ نمازوں کو قائم کرتے ہیں جو ان پر فرض کی گئی ہیں، اور رمضان کے روزے ثواب کی نیت سے رکھتے ہیں اور اسے اپنا حق سمجھتے ہیں، اور اپنے مال کی زکوٰۃ خوش دلی سے ادا کرتے ہیں، اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔“ پھر ایک شخص نے آپ ﷺ سے سوال کیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کبیرہ گناہ کون سے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نو ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی مومن کو ناحق قتل کرنا، میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا، اور بیت اللہ کی حرمت کو حلال سمجھنا جو زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ان کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیے بغیر مر گیا اور وہ نماز قائم کرتا رہا اور زکوٰۃ ادا کرتا رہا، تو وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایسے گھر میں ہوگا جس کے دروازے سونے کے بنے ہوئے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7859
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة عبد الحميد بن سنان» [ترقيم الرساله 7859] [ترقيم الشركة 7765] [ترقيم العلميه 7666]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ: يقم الصلاة، والتصويب من الرواية السالفة (198).
نوٹ / توضیح: دستیاب نسخوں میں "یقم الصلاۃ" لکھا ہے، جبکہ درست عبارت حدیث نمبر 198 کی روشنی میں "یقیم الصلاۃ" بنتی ہے۔
(2) ما بين المعقوفين لم يرد في النسخ، وأثبتناه من "تلخيص الذهبي".
نوٹ / توضیح: بریکٹ (معقوفین) کے درمیان والی عبارت اصل نسخوں میں نہیں تھی، اسے امام ذہبی کی "تلخیص" کی مدد سے مکمل کیا گیا ہے۔
(3) أقحم في النسخ بعده لفظ: إشراك.
فنی نکتہ / علّت: نسخوں میں یہاں لفظ "اشراک" کا زبردستی اضافہ (اقحام) کر دیا گیا ہے جو کہ متن کا حصہ معلوم نہیں ہوتا۔
(4) إسناده ضعيف لجهالة عبد الحميد بن سنان. وسلف برقم (198).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعف کی وجہ راوی عبد الحمید بن سنان کی "جہالت" (عدمِ معرفت) ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ بحث نمبر 198 پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7859 سے ماخوذ ہے۔