المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ . باب: جس کے حساب میں جرح (بحث) کی گئی وہ ہلاک ہو گیا
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو زُرْعة الدمشقي، حَدَّثَنَا أحمد بن خالد الوَهْبي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حدثني عبد الواحد بن حمزة بن عبد الله بن الزُّبير، عن عبَّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول في بعض صلاتِه: "اللهمَّ حاسِبْني حِسابًا يسيرًا"، فلما انصرف قلتُ: يا رسولَ الله، ما الحسابُ اليسير؟ قال: "يُنظَرُ في كتابِه ويُتجاوَزُ له عنه، إنه من نُوقِشَ الحسابَ يا عائشةُ هَلَكَ، وكلُّ ما يُصيبُ المؤمنَ كَفَّرَ اللهُ عنه حتَّى الشوكةُ تَشُوكُه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7636 - على شرط مسلمسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی کسی نماز میں یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» ”اے اللہ! میرا حساب آسانی کے ساتھ لینا۔“ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا نامہ اعمال دیکھا جائے گا اور اس سے درگزر کیا جائے گا، اے عائشہ! جس کے حساب میں جرح و بحث کی گئی وہ تو ہلاک ہو گیا، اور مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، یہاں تک کہ اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث اصلاً صحیح ہے، سوائے نماز میں اس دعا "اللهم حاسبني حسابًا يسيرًا" (اے اللہ میرا حساب آسان فرما) والے قصے کے، کیونکہ یہ ایک "شاذ" زیادتی ہے جیسا کہ نمبر (191) کے تحت واضح کیا جا چکا ہے۔