حدیث نمبر: 7828
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو زُرْعة الدمشقي، حَدَّثَنَا أحمد بن خالد الوَهْبي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حدثني عبد الواحد بن حمزة بن عبد الله بن الزُّبير، عن عبَّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول في بعض صلاتِه: "اللهمَّ حاسِبْني حِسابًا يسيرًا"، فلما انصرف قلتُ: يا رسولَ الله، ما الحسابُ اليسير؟ قال: "يُنظَرُ في كتابِه ويُتجاوَزُ له عنه، إنه من نُوقِشَ الحسابَ يا عائشةُ هَلَكَ، وكلُّ ما يُصيبُ المؤمنَ كَفَّرَ اللهُ عنه حتَّى الشوكةُ تَشُوكُه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7636 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی کسی نماز میں یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» ”اے اللہ! میرا حساب آسانی کے ساتھ لینا۔“ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا نامہ اعمال دیکھا جائے گا اور اس سے درگزر کیا جائے گا، اے عائشہ! جس کے حساب میں جرح و بحث کی گئی وہ تو ہلاک ہو گیا، اور مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، یہاں تک کہ اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7828
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح د
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قصة دعائه في الصلاة بـ "اللهم حاسبني حسابًا يسيرًا" فهي زيادة شاذَّة كما سبق بيانه برقم (191)» [ترقيم الرساله 7828] [ترقيم الشركة 7735] [ترقيم العلميه 7636]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح دون قصة دعائه في الصلاة بـ "اللهم حاسبني حسابًا يسيرًا" فهي زيادة شاذَّة كما سبق بيانه برقم (191).
درجۂ حدیث: یہ حدیث اصلاً صحیح ہے، سوائے نماز میں اس دعا "اللهم حاسبني حسابًا يسيرًا" (اے اللہ میرا حساب آسان فرما) والے قصے کے، کیونکہ یہ ایک "شاذ" زیادتی ہے جیسا کہ نمبر (191) کے تحت واضح کیا جا چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7828 سے ماخوذ ہے۔