المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ خَلَقَ لَهُ مَا يَغْلِبُهُ . باب: اللہ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جس کے لیے اسے مغلوب کرنے والی چیز پیدا نہ کی ہو
حدیث نمبر: 7826
أخبرنا أبو علي الحافظ، أخبرنا علي بن العباس البَجَلي، حَدَّثَنَا يحيى بن حَكيم، حَدَّثَنَا خالد بن الحارث، حَدَّثَنَا شُعبة، أخبرني عَدِيُّ بن ثابت وعطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس - قال شعبةُ: ذكرَ أحدُهما عن رسول الله ﷺ - قال: "إنَّ جبريلَ ﵇ جعلَ يَدُسُّ في فَمِ فرعونَ الطِّينَ خَشْيةَ أن يقولَ: لا إله إلَّا الله، فيرَحِمَهُ اللهُ ﷿" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث علي بن زيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7634 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جبرائیل علیہ السلام فرعون کے منہ میں اس خوف سے مٹی بھرنے لگے کہ کہیں وہ ”لا الہ الا اللہ“ نہ کہہ دے اور اللہ عزوجل اس پر رحم فرما دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح موقوفًا كما سلف بيانه وتخريجه برقم (189) و (190). يحيى بن حكيم: هو المقوّم البصري.
درجۂ حدیث: یہ "موقوفاً" صحیح ہے جیسا کہ نمبر (189) اور (190) پر اس کی تحقیق اور تخریج گزر چکی ہے۔
نوٹ / توضیح: یحییٰ بن حکیم سے مراد "المقوم البصری" ہیں۔
درجۂ حدیث: یہ "موقوفاً" صحیح ہے جیسا کہ نمبر (189) اور (190) پر اس کی تحقیق اور تخریج گزر چکی ہے۔
نوٹ / توضیح: یحییٰ بن حکیم سے مراد "المقوم البصری" ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7826 سے ماخوذ ہے۔