حدیث نمبر: 7819
أخبرَناه أبو النَّضر الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا أصبغ بن الفَرَج، أخبرني ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هِلال، عن علي بن خالد قال: مرَّ أبو أُمامة الباهِلي على خالد بن يزيد بن معاوية، فسأله عن أَليَن كلمةٍ سَمِعها من رسول الله ﷺ، فقال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "كلُّكم يَدخُلُ الجنَّةَ إِلَّا من شَرَدَ على الله شِرَادَ (1) البعيرِ على أهله" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7627 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خالد بن یزید نے ان سے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی سب سے نرم بات کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم سب جنت میں داخل ہو گے سوائے اس شخص کے جو اللہ سے اس طرح بدک کر بھاگ جائے جیسے اونٹ اپنے مالک سے بھاگ جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7819
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل علي بن خالد» [ترقيم الرساله 7819] [ترقيم الشركة 7726] [ترقيم العلميه 7627]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: شرد.
نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "شرد" ہو گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل علي بن خالد. وسلف برقم (185).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور علی بن خالد کی موجودگی کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (185) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7819 سے ماخوذ ہے۔