حدیث نمبر: 7818
حَدَّثَنَا أبو الحسين (1) أحمد بن إسحاق العَدْل الصَّيدلاني، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أُويس، حَدَّثَنَا إبراهيم بن سعد، عن صالح بن كَيْسان، عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لَتدخُلُنَّ الجنَّةَ إِلَّا من أبَى وشَرَدَ على الله كشِرَاد البَعير" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد أخرجه البخاريُّ ﵀ عن محمد بن سِنان العَوَقي، عن فُليح بن سُليمان، عن هِلال بن علي، عن عطاء بن يسار، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "كلُّ أمّتي يدخلون الجنَّةَ إِلَّا من أَبَى" قيل: يا رسول الله، ومن يأْبَى؟ قال: "مَن عَصَانِي فقد أَبَى" (3). وقد رُويَ المتنُ الأول عن أبي أُمامة الباهلي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7626 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ضرور بالضرور جنت میں داخل ہو جاؤ گے سوائے اس شخص کے جس نے (جنت میں جانے سے) انکار کیا اور اللہ سے اس طرح بھاگا جیسے اونٹ اپنے مالک سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام بخاری نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ”میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے انکار کیا“، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا: ”جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7818
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إسماعيل بن أبي أويس وقد توبع عند المصنّف فيما سلف برقم (184)» [ترقيم الرساله 7818] [ترقيم الشركة 7725] [ترقيم العلميه 7626]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هكذا وقع مكنًّى هنا، وفي مصنفات البيهقي مكنًّى بأبي الحسن مكبرًا، بينما كنَّاه الذهبي في "تاريخ الإسلام" 7/ 705 أبا بكر.
نوٹ / توضیح: (1) یہاں کنیت اسی طرح (مبہم) واقع ہوئی ہے، جبکہ بیہقی کی تصنیفات میں کنیت "ابو الحسن" (مکبر) آئی ہے، جبکہ حافظ ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (7/705) میں ان کی کنیت "ابو بکر" ذکر کی ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إسماعيل بن أبي أويس وقد توبع عند المصنّف فيما سلف برقم (184).
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے، اور اس سند کا درجہ اسماعیل بن ابی اویس کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے، اور مصنف کے ہاں پیچھے حدیث نمبر (184) میں ان کی متابعت (تائید) موجود ہے۔
(3) البخاري في "صحيحه" برقم (7280). ولفظه عنده: "من أطاعني دخل الجنة، ومن عصاني فقد أَبَى".
حوالہ / مصدر: (3) امام بخاری نے اپنی "صحیح" میں اسے نمبر (7280) پر روایت کیا ہے۔ ان کے ہاں الفاظ یہ ہیں: "جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گیا، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے (جنت میں جانے سے) انکار کر دیا"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7818 سے ماخوذ ہے۔