حدیث نمبر: 7746
وحدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني أبو عَقيل زُهْرة بن مَعبَد، عن جدِّه عبد عبد الله بن هشام -وكان قد أدرك النبيَّ ﷺ ذهبَتْ به أُمُّه زينبُ بنت حُميد إلى رسولِ الله ﷺ وهو صغيرٌ، فمسح رأسَه ودعا له - قال: كان رسول الله ﷺ يُضحِّي بالشاةِ الواحدة عن جميع أهلِه (2). هذه الأحاديثُ كلُّها صحيحة الأسانيد في الرُّخصة في الأُضحيّة بالشاة الواحدة عن الجماعة التي لا يُحصى عددُهم، خلافَ مَن يتوهَّم أنها لا تُجزِئُ إِلَّا عن الواحد. وقد رُويت أخبارٌ في الأضحيّة عن الأموات: فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7555 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی والدہ زینب بنت حمید انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئیں جبکہ وہ چھوٹے تھے، آپ ﷺ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا فرمائی؛ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اپنے تمام اہل و عیال کی طرف سے صرف ایک ہی بکری کی قربانی کیا کرتے تھے؛ یہ تمام احادیث اس رخصت کے بارے میں صحیح الاسناد ہیں کہ ایک بکری ان تمام افراد کی طرف سے کافی ہے جن کی تعداد متعین نہ ہو، برخلاف ان لوگوں کے گمان کے جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ایک ہی شخص کی طرف سے کافی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7746
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7746] [ترقيم الشركة 7654] [ترقيم العلميه 7555]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. وسلف تخريجه برقم (6034).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے اور اس کی تخریج پہلے حدیث نمبر 6034 کے تحت دی جا چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7746 سے ماخوذ ہے۔