المستدرك على الصحيحين
كتاب الأضاحي— قربانی کے متعلق روایات
لَا بَأْسَ بِالْعَرْجَاءِ إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسَكَ . باب: لنگڑے جانور کی قربانی میں کوئی حرج نہیں اگر وہ خود چل کر ذبح گاہ تک پہنچ جائے
حدیث نمبر: 7728
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا علي بن عاصم، حدثني ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ: "لا تجوزُ في البُدْن (2): العَوْراءُ، والعَجْفاءُ، والجَرْباءُ، والمُصطَلَمةُ أَطْباؤُها كلُّها" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7537 - علي بن عاصم ضعفوهحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی کے بڑے جانوروں (اونٹ وغیرہ) میں یہ جائز نہیں ہیں: کانا جانور، دبلا پتلا جانور، خارش زدہ جانور، اور وہ جانور جس کے تھن (جڑ سے) کٹ گئے ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) المثبت من (ز)، ومثله في روايتي الطبراني، وفي (ص) و (م): النذر، ومثله في رواية ابن الأعرابي.
نوٹ / توضیح: یہاں متن کا اثبات نسخہ 'ز' سے کیا گیا ہے جیسا کہ طبرانی کی روایات میں ہے، جبکہ نسخہ 'ص' و 'م' اور ابن الاعرابی کے ہاں 'النذر' کا لفظ ہے۔
(3) إسناده ضعيف، تفرَّد به مرفوعًا علي بن عاصم -وهو ابن صهيب الواسطي- وهو ضعيف.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس روایت کو مرفوعاً بیان کرنے میں علی بن عاصم (ابن صہیب واسطی) منفرد ہیں اور وہ ضعیف راوی ہیں۔
وقد خولف في رفعه كما سيأتي. ابن طاووس: هو عبد الله.
فنی نکتہ / علّت: علی بن عاصم کی اس روایت کو مرفوع کرنے میں مخالفت کی گئی ہے جیسا کہ تفصیل آگے آئے گی۔ ابن طاؤس سے مراد عبداللہ بن طاؤس ہیں۔
وأخرجه ابن الأعرابي في "معجمه" (620)، والطبراني في "الكبير" (10928)، وفي "الأوسط" (3578) من طرق عن علي بن عاصم، بهذا الإسناد. زاد ابن الأعرابي: قال علي بن عاصم: كان عطاء يفتي به ولا يرفعه.
حوالہ / مصدر: اسے ابن الاعرابی 'معجم' (620) اور طبرانی 'الکبیر' (10928) و 'الاوسط' (3578) میں علی بن عاصم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: ابن الاعرابی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عطاء اس پر فتویٰ دیتے تھے مگر اسے 'مرفوع' بیان نہیں کرتے تھے۔
وأخرجه إبراهيم الحربي في "غريب الحديث" 3/ 1198 عن أحمد بن حنبل، عن وكيع، عن سفيان الثوري، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن طاووس، عن ابن عباس موقوفًا قال: لا تجوز المُصرَّمة أطباؤها كلُّها. وسنده صحيح. وفسَّرها بأن يُصرَم طبيها (أي: ضَرْعها) فيقرح ولا يخرج منه اللبنُ فَيَيْبَسَ.
حوالہ / مصدر: اسے ابراہیم حربی نے "غریب الحدیث" (3/ 1198) میں امام احمد بن حنبل، وکیع بن جراح، سفیان ثوری، عبد اللہ بن ابی نجیح اور طاؤس کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ جانور (قربانی کے لیے) جائز نہیں جس کے تمام تھن کاٹ دیے گئے ہوں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: 'مصرمہ' کی وضاحت یہ کی گئی ہے کہ اس کے تھن (لیوا) کاٹ دیے جائیں، جس سے وہ زخمی ہو جائے، دودھ نکلنا بند ہو جائے اور وہ خشک ہو جائے۔
قال ابن الأثير في "النهاية": "المصطَلَمة أطباؤها" أي: المقطوعة الضروع، والأَطْباء: واحدها طُبْي، بالضم والكسر. وفسَّرها بالأخلاف جمع خِلْف: وهو الضَّرْع.
حوالہ / مصدر: علامہ ابن الاثیر نے "النهایہ" میں لکھا ہے۔
نوٹ / توضیح: "المصطلمہ اطباؤہا" سے مراد وہ جانور ہے جس کے تھن کٹے ہوئے ہوں۔ 'الاطباء' کا واحد 'طبی' (طا پر پیش یا زیر کے ساتھ) ہے۔ انہوں نے اس کی تفسیر 'اخلاف' سے کی ہے جو 'خلف' کی جمع ہے، اور اس کا معنی 'تھن' (Udder) ہے۔
نوٹ / توضیح: یہاں متن کا اثبات نسخہ 'ز' سے کیا گیا ہے جیسا کہ طبرانی کی روایات میں ہے، جبکہ نسخہ 'ص' و 'م' اور ابن الاعرابی کے ہاں 'النذر' کا لفظ ہے۔
(3) إسناده ضعيف، تفرَّد به مرفوعًا علي بن عاصم -وهو ابن صهيب الواسطي- وهو ضعيف.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس روایت کو مرفوعاً بیان کرنے میں علی بن عاصم (ابن صہیب واسطی) منفرد ہیں اور وہ ضعیف راوی ہیں۔
وقد خولف في رفعه كما سيأتي. ابن طاووس: هو عبد الله.
فنی نکتہ / علّت: علی بن عاصم کی اس روایت کو مرفوع کرنے میں مخالفت کی گئی ہے جیسا کہ تفصیل آگے آئے گی۔ ابن طاؤس سے مراد عبداللہ بن طاؤس ہیں۔
وأخرجه ابن الأعرابي في "معجمه" (620)، والطبراني في "الكبير" (10928)، وفي "الأوسط" (3578) من طرق عن علي بن عاصم، بهذا الإسناد. زاد ابن الأعرابي: قال علي بن عاصم: كان عطاء يفتي به ولا يرفعه.
حوالہ / مصدر: اسے ابن الاعرابی 'معجم' (620) اور طبرانی 'الکبیر' (10928) و 'الاوسط' (3578) میں علی بن عاصم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: ابن الاعرابی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عطاء اس پر فتویٰ دیتے تھے مگر اسے 'مرفوع' بیان نہیں کرتے تھے۔
وأخرجه إبراهيم الحربي في "غريب الحديث" 3/ 1198 عن أحمد بن حنبل، عن وكيع، عن سفيان الثوري، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن طاووس، عن ابن عباس موقوفًا قال: لا تجوز المُصرَّمة أطباؤها كلُّها. وسنده صحيح. وفسَّرها بأن يُصرَم طبيها (أي: ضَرْعها) فيقرح ولا يخرج منه اللبنُ فَيَيْبَسَ.
حوالہ / مصدر: اسے ابراہیم حربی نے "غریب الحدیث" (3/ 1198) میں امام احمد بن حنبل، وکیع بن جراح، سفیان ثوری، عبد اللہ بن ابی نجیح اور طاؤس کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ جانور (قربانی کے لیے) جائز نہیں جس کے تمام تھن کاٹ دیے گئے ہوں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: 'مصرمہ' کی وضاحت یہ کی گئی ہے کہ اس کے تھن (لیوا) کاٹ دیے جائیں، جس سے وہ زخمی ہو جائے، دودھ نکلنا بند ہو جائے اور وہ خشک ہو جائے۔
قال ابن الأثير في "النهاية": "المصطَلَمة أطباؤها" أي: المقطوعة الضروع، والأَطْباء: واحدها طُبْي، بالضم والكسر. وفسَّرها بالأخلاف جمع خِلْف: وهو الضَّرْع.
حوالہ / مصدر: علامہ ابن الاثیر نے "النهایہ" میں لکھا ہے۔
نوٹ / توضیح: "المصطلمہ اطباؤہا" سے مراد وہ جانور ہے جس کے تھن کٹے ہوئے ہوں۔ 'الاطباء' کا واحد 'طبی' (طا پر پیش یا زیر کے ساتھ) ہے۔ انہوں نے اس کی تفسیر 'اخلاف' سے کی ہے جو 'خلف' کی جمع ہے، اور اس کا معنی 'تھن' (Udder) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7728 سے ماخوذ ہے۔