حدیث نمبر: 7712
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن ثَوْر بن يزيد، عن راشد بن سعد، عن عبد الله بن لُحَي (1)، عن عبد الله بن قُرْط قال: قال رسول الله ﷺ: "أعظمُ الأيام عندَ الله يومُ النَّحر، [ثم] (2) يومُ القَرِّ (3) "، وقُدِّم إلى النبيِّ ﷺ بَدَناتٌ خمسٌ أو ستٌّ، فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ بأيَّتِهِنَّ يبدأُ بها، فلما وَجَبَتْ جُنوبُها قال كلمةً خفيفةَ لم أفهمها، فسألتُ مَن يليه، فقال: قال: "مَن شاءَ اقتَطَعَ" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7522 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن قربانی کا دن (10 ذوالحجہ) ہے، پھر اس کے بعد قرار کا دن (11 ذوالحجہ) ہے۔“ اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانچ یا چھ اونٹ پیش کیے گئے تو وہ ایک دوسرے کے قریب ہونے لگے کہ آپ ﷺ کس سے ابتدا فرماتے ہیں، پھر جب وہ اپنے پہلوؤں کے بل گر گئے تو آپ ﷺ نے ایک مختصر کلمہ ارشاد فرمایا جو میں سمجھ نہ سکا، میں نے آپ کے قریبی شخص سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہے اس (کے گوشت) میں سے کاٹ لے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7712
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7712] [ترقيم الشركة 7620] [ترقيم العلميه 7522]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: يحيى.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر 'یحییٰ' ہو گیا ہے۔
(2) أثبتناها من "التلخيص"، وليست في النسخ الخطية.
نوٹ / توضیح: اس کا اثبات ہم نے 'التلخیص' سے کیا ہے، یہ قلمی نسخوں میں موجود نہیں تھا۔
(3) تحرّف في (ص) و (م) إلى: النفر. ويوم القَرّ هو ثاني أيام العيد، وقد فسَّره ثور كما وقع في رواية أبي داود.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ 'ص' اور 'م' میں یہ لفظ تحریف ہو کر 'النفر' ہو گیا ہے۔
نوٹ / توضیح: 'یوم القر' سے مراد عید کا دوسرا دن ہے، اور ثور (بن یزید) نے اس کی یہی تفسیر کی ہے جیسا کہ ابوداؤد کی روایت میں موجود ہے۔
(4) إسناده صحيح. يحيى: هو ابن سعيد القطان.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود 'یحییٰ' سے مراد یحییٰ بن سعید القطان ہیں۔
وأخرجه أحمد 31/ (19075)، والنسائي (4083)، وابن حبان (2811) من طريق يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد. وروايتا النسائي وابن حبان مختصرتان.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (31/19075)، نسائی (4083) اور ابن حبان (2811) نے یحییٰ بن سعید القطان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: امام نسائی اور ابن حبان کی روایت کردہ احادیث مختصر ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1765) من طريق عيسى بن يونس السبيعي، عن ثور بن يزيد، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (1765) نے عیسیٰ بن یونس سبیعی کے طریق سے، انہوں نے ثور بن یزید سے اور انہوں نے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7712 سے ماخوذ ہے۔