حدیث نمبر: 7573
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ العدل، حَدَّثَنَا موسى بن هارون، حَدَّثَنَا القاسم بن دِينار الطحَّان، حَدَّثَنَا إسحاق بن منصور السَّلُولي، عن عُمارة بن زاذان، عن ثابت، عن أنس بن مالك: أنَّ مَلِكَ ذي يَزَنٍ أَهدَى للنبيِّ ﷺ حُلَّةً اشتُرِيَتْ بثلاثةٍ وثلاثين بعيرًا وناقةً، فَلَبِسَها النَّبِيُّ ﷺ مَرَّةً (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7386 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شاہِ ذو یزن نے نبی کریم ﷺ کو ایک ایسا حلہ (لباس) تحفہ دیا جو تینتیس اونٹوں اور ایک اونٹنی کے بدلے خریدا گیا تھا، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اسے ایک مرتبہ زیب تن فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب اللباس / حدیث: 7573
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، عمارة بن زاذان يروي عن ثابت عن أنس مناكير فيما قاله الإمام أحمد، وقد تفرد بهذا الحديث، والمحفوظ عن أنس: أنَّ الذي بعث بحلة هديةً إلى النَّبِيّ ﷺ هو أُكيدر دُومة، وأما حلة ذي يزن فالصحيح فيها أنه أشتراها حكيم بن حزام ثم أراد أن يهديها للنبي ﷺ، ...» [ترقيم الرساله 7573] [ترقيم الشركة 7482] [ترقيم العلميه 7386]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف عمارة بن زاذان يروي عن ثابت عن أنس مناكير فيما قاله الإمام أحمد، وقد تفرد بهذا الحديث، والمحفوظ عن أنس: أنَّ الذي بعث بحلة هديةً إلى النَّبِيّ ﷺ هو أُكيدر دُومة، وأما حلة ذي يزن فالصحيح فيها أنه أشتراها حكيم بن حزام ثم أراد أن يهديها للنبي ﷺ، ولم يكن قد أسلم بعد، فلم يقبلها النَّبِيّ ﷺ حتَّى اشتراها منه.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عمارہ بن زاذان، ثابت کے واسطے سے حضرت انس سے منکر روایات نقل کرتا ہے جیسا کہ امام احمد نے فرمایا ہے، اور وہ اس حدیث میں متفرد ہے۔ حضرت انس سے محفوظ روایت یہ ہے کہ جس نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حلہ بطور ہدیہ بھیجا تھا وہ "اُکیدرِ دومہ" تھا۔ رہی بات "ذی یزن" کے حلے کی، تو اس بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ اسے حکیم بن حزام نے خریدا تھا پھر نبی ﷺ کو ہدیہ کرنا چاہا، اور وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، تو نبی ﷺ نے اسے قبول نہیں فرمایا یہاں تک کہ اسے ان سے خرید لیا۔
وأخرجه أحمد 21/ (13315) عن حسن بن موسى الأشيب، وأبو داود (4034) عن عمرو بن عون، كلاهما عن عمارة بن زاذان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (21/ 13315) نے حسن بن موسیٰ اشیب سے، اور ابوداؤد (4034) نے عمرو بن عون سے کی ہے، یہ دونوں عمارہ بن زاذان سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7573 سے ماخوذ ہے۔