حدیث نمبر: 7538
أخبرنا أبو الطيِّب محمد بن علي بن الحسن (1) الحِيريّ، حدّثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبيب، حدّثنا يعلى بن عُبيد، حدّثنا فِطر بن خَليفة، قال: كنتُ جالسًا عند زيد بن علي بالمدينة، فمرَّ عليه شيخٌ يقال له: شُرَحبيل أبو سعد، فقال له زيد: من أين جئتَ يا أبا سعد؟ قال: من عند أميرِ المدينة، حدّثتُه بحديث، قال: فحدِّثْ به القومَ، قال: سمعتُ ابن عباس يقول: قال رسول الله ﷺ: "ما مِن مسلمٍ تُدرِكُ له ابنتانِ فيُحسِنُ إليهما ما صَحِبَتاه أو صَحِبَهما، إِلَّا أَدخَلَتاه الجنَّةَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان کی دو بیٹیاں (جوان) ہو جائیں اور وہ ان کے ساتھ بہترین سلوک کرے جب تک وہ اس کے ساتھ رہیں یا وہ ان کے ساتھ رہے، تو وہ دونوں اسے ضرور جنت میں داخل کرائیں گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7538
درجۂ حدیث محدثین: صحيح بما قبله
تخریج حدیث «صحيح بما قبله، وهذا إسناد ضعيف من أجل شرحبيل أبي سعد: وهو ابن سعد الخطمي» [ترقيم الرساله 7538] [ترقيم الشركة 7447]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: الحسين، وجاء على الصواب في "إتحاف المهرة" (7722).
نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "الحسین" بن گیا ہے، جبکہ درست نام "إتحاف المهرة" (7722) میں آیا ہے۔
(2) صحيح بما قبله، وهذا إسناد ضعيف من أجل شرحبيل أبي سعد: وهو ابن سعد الخطمي.
درجۂ حدیث: (2) یہ روایت ماقبل کی بنا پر صحیح ہے، البتہ یہ سند شرحبیل ابو سعد (ابن سعد خطمی) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2104)، وابن ماجه (3670)، وابن حبان (2945) من طرق عن فطر بن خليفة، بهذا الإسناد. واقتصروا فيه على المرفوع دون القصة.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (4/ 2104)، ابن ماجہ (3670) اور ابن حبان (2945) نے فطر بن خلیفہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے، اور انہوں نے قصہ ذکر کرنے کے بجائے صرف مرفوع حصے پر اکتفا کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (5/ 3424) من طريق عكرمة، عن شرحبيل، به.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (5/ 3424) نے عکرمہ کے طریق سے، انہوں نے شرحبیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7538 سے ماخوذ ہے۔