حدیث نمبر: 7502
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدّثنا حامد بن أبي حامد المقرئ. وأخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الهَمَذانيّ، حدّثنا إسحاق بن إبراهيم (1) الخرّاز؛ قالا حدّثنا إسحاق بن سليمان الرازي، قال: سمعتُ مالك بن أنس يُحدَّث عن أبي حازم بن دينار، عن أبي إدريس الخَوْلانيّ، قال: دخلتُ مسجد دمشق، فإذا فتى برَّاقُ الثَّنايا وإذا الناس معه إذا اختُلفوا في شيء أسنَدوا إليه، وصدَرُوا عن رأيه، فسألتُ عنه، فقيل: هذا معاذُ بن جَبَل، فلمّا كان من الغد هجَّرتُ فوجدتُه قد سَبَقَنيّ، ووجدتُه يُصلِّي، قال: فانتظرتُه حتى قضى صلاتَه، ثم جئتُه من قِبَل وجهه فسلَّمتُ، وقلتُ: والله إني لأُحبُّك في الله، فقال: اللهِ؟ فقلتُ: اللهِ، فقال: اللهِ؟ فقلت: اللهِ، قال: فأخذ بحُبوة رِدائي وجَذَبني إليه، وقال: أبشِرْ، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "قال الله ﷿: وَجَبَتْ مَحبَّتي للمتحابَّين فيّ، والمتجالسين فيَّ، والمتباذِلين فيَّ، والمُتزاوِرين فيَّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد جمع أبو إدريس بإسناد صحيح بين معاذ وعُبادة بن الصامت في هذا المتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7314 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک روشن دانتوں والے (پرکشش) نوجوان کو دیکھا جن کے ساتھ لوگ موجود تھے اور جب کسی بات میں اختلاف ہوتا تو انہی کی طرف رجوع کرتے اور ان کی رائے سے فیض پاتے، میں نے ان کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، جب اگلا دن ہوا تو میں دوپہر کے وقت مسجد گیا تو دیکھا کہ وہ مجھ سے پہلے وہاں موجود تھے اور نماز پڑھ رہے تھے، میں نے ان کا انتظار کیا یہاں تک کہ وہ اپنی نماز پوری کر چکے، پھر میں ان کے سامنے سے آیا اور انہیں سلام کیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے اللہ کی رضا کے لیے محبت کرتا ہوں، انہوں نے پوچھا: اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم، انہوں نے (تاکیداً) پھر پوچھا: اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم، تب انہوں نے میری چادر کا دامن پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچا اور فرمایا: تمہیں خوشخبری ہو! کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: میری محبت ان لوگوں کے لیے لازم ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، جو میری خاطر ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے ہیں، جو میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور جو میری خاطر ایک دوسرے کی ملاقات کو جاتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7502
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7502] [ترقيم الشركة 7410] [ترقيم العلميه 7314]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا وقع في النسخ الخطية في هذا الموضع والموضع الآتي برقم (7619)، ولم نقف لهذا الاسم على ترجمة، ويغلب على ظننا أنَّ ما وقع هنا وهناك خطأ، وأنَّ صوابه: إسحاق بن أحمد الخزاز، فقد تكررت هذه السلسلة في عدة مواضع عند المصنّف.
نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں اس مقام پر اور آگے آنے والے مقام نمبر (7619) پر (راوی کا نام) اسی طرح لکھا گیا ہے، لیکن ہمیں اس نام کے راوی کا کوئی ترجمہ (حالاتِ زندگی) نہیں ملا۔ ہمارا غالب گمان یہی ہے کہ یہاں اور وہاں جو نام واقع ہوا ہے وہ غلطی ہے اور درست نام ’’اسحاق بن احمد الخزاز‘‘ ہے، کیونکہ مصنف کے ہاں متعدد مقامات پر یہ سند اسی طرح دہرائی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7502 سے ماخوذ ہے۔