المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
النَّهْيُ الْوَاضِحُ عَنْ تَحْصِينِ الْحِيطَانِ وَالنَّخِيلِ باب: دیواروں اور کھجور کے درختوں کو (لوگوں سے) محفوظ کرنے (روکنے) کی واضح ممانعت
حدیث نمبر: 7370
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا الحسن بن علي بن بحر البَرِّي، حدثنا أَبي، حدثنا سُوَيد بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد المَقْبُري، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال: "إنَّ الله تعالى لَيُدخِلُ بلُقْمة الخُبز وقبضةِ التمرِ ومثلِه مما يَنفَعُ المسكينَ ثلاثةً الجنَّةَ: الآمر به، والزوجة المُصلحةَ، والخادمَ الذي يُناوِلُ المسكينَ"، وقال رسول الله ﷺ: "الحمدُ الله الذي لم ينسَ خَدَمَنا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7187 - سويد بن عبد العزيز متروكحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ روٹی کے ایک لقمے، کھجور کی ایک مٹھی اور اس جیسی ہر اس چیز کی وجہ سے جو مسکین کو نفع پہنچائے، تین لوگوں کو جنت میں داخل فرماتا ہے: (صدقہ کا) حکم دینے والا، اصلاح و خیر خواہی کرنے والی (انتظام سنبھالنے والی) بیوی، اور وہ خادم جو مسکین کے ہاتھ میں وہ چیز تھماتا ہے“، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے خادموں کو (اجر سے) محروم نہیں رکھا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف سويد بن عبد العزيز، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه" فقال: سويد متروك! وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (5309)، وابن شاهين في "الترغيب في فضائل الأعمال" (376)، وابن الفاخر السمرقندي في موجبات الجنة" (229)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 54/ 360 من طرق عن سويد بن عبد العزيز، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند سوید بن عبد العزیز کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے "تلخیص" میں اسی وجہ سے اس پر علت لگاتے ہوئے کہا ہے کہ: "سوید متروک ہے!"
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الأوسط" (5309)، ابن شاہین نے "الترغيب في فضائل الأعمال" (376)، ابن الفاخر السمرقندی نے "موجبات الجنة" (229) اور ابن عساکر نے "تاریخِ دمشق" 54/ 360 میں سوید بن عبد العزیز کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند سوید بن عبد العزیز کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے "تلخیص" میں اسی وجہ سے اس پر علت لگاتے ہوئے کہا ہے کہ: "سوید متروک ہے!"
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الأوسط" (5309)، ابن شاہین نے "الترغيب في فضائل الأعمال" (376)، ابن الفاخر السمرقندی نے "موجبات الجنة" (229) اور ابن عساکر نے "تاریخِ دمشق" 54/ 360 میں سوید بن عبد العزیز کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7370 سے ماخوذ ہے۔