المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
حِكَايَةُ إِيثَارِ الصَّحَابِيِّ فِي الضِّيَافَةِ باب: مہمان نوازی میں صحابی رضی اللہ عنہ کے ایثار کا واقعہ
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل وعبد الله بن الحسين القاضي، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حدثنا فُضيل بن مرزوق، حدثنا عَديّ بن ثابت، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: أتى رجلٌ رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، أصابني الجَهْدُ، فأرسلَ إلى نسائِه فلم يَجِدْ عندهنَّ شيئًا، فقال رسولُ الله ﷺ: "ألَا رجلٌ يُضِيفُ هذا الليلةَ ﵀"، فقام رجلٌ من الأنصار فقال: أنا يا رسولَ الله. فذهب إلى أهله، فقال لامرأته: ضيفُ رسول الله ﷺ لا تَدَّخريهِ شيئًا، قالت: والله ما عندي إلَّا قوتُ الصِّبْية، قال: فإذا أراد الصِّبيةُ العَشَاءَ فنوِّميهم وتعالَيْ فأطفِئي السِّراج، ونَطْوي بطونَنا الليلةَ، ففعلَتْ ثم غَدًا الرجلُ على رسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ: "لقد عَجِبَ اللهُ - أي: لقد ضَحِكَ اللهُ ﷿ من فلانٍ وفلانةَ"، وأنزل الله تبارك تعالى: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [الحشر: 9] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7176 - على شرط مسلمسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں سخت بھوک اور مشقت کی حالت میں ہوں، آپ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے ہاں قاصد بھیجا مگر ان کے پاس کچھ نہ ملا، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اس رات اس کی مہمانی کرے؟ اللہ اس پر رحم فرمائے“، تو انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں، وہ اسے اپنے گھر لے گئے اور اپنی اہلیہ سے کہا: رسول اللہ ﷺ کے مہمان کی خاطر تواضع کرو اور کوئی چیز بچا کر نہ رکھو، اہلیہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرے پاس بچوں کی خوراک کے علاوہ کچھ نہیں ہے، انہوں نے کہا: جب بچے رات کا کھانا مانگیں تو انہیں سلا دینا اور تم آ کر چراغ بجھا دینا، ہم اس رات فاقہ کر لیں گے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اگلی صبح وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فلاں مرد اور فلاں عورت (تم دونوں میاں بیوی) کے عمل سے بہت خوش ہوا (یا مسکرایا)“، اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ ”اور وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود فاقہ کشی میں ہوں“ [سورة الحشر: 9]۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کی سند فضیل بن مرزوق کی وجہ سے "جید" ہے، اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا البخاري (3798) و (4889)، ومسلم (2054)، والترمذي (3304)، والنسائي (11518)، وابن حبان (5286) من طريق فضيل بن غزوان، عن أبي حازم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (3798) و (4889)، امام مسلم (2054)، امام ترمذی (3304)، امام نسائی (11518) اور ابن حبان (5286) نے فضیل بن غزوان عن ابی حازم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ مکمل اور مختصر طور پر روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حسن صحيح. واستدراك الحاكم له ذهول منه.
اہم نکتہ: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔ امام حاکم کا اس حدیث پر استدراک کرنا ان کی ذہنی غفلت (ذہول) کا نتیجہ ہے۔
وأخرجه ابن حبان (7264) من طريق يزيد بن كيسان، عن أبي حازم، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (7264) میں یزید بن کیسان عن ابی حازم کے طریق سے روایت کیا ہے۔