حدیث نمبر: 7271
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سُليم المكي، حدثنا إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرة، عن أبيه، قال: كنتُ وافدَ بني المُنتِفق إلى رسول الله ﷺ، فقدِمْنا على رسول الله ﷺ فلم نصادِفْه في منزله وصادفنا عائشةَ أمَّ المؤمنين، فأمرت لنا بخَزِيرة فصُنعت لنا، وأتتنا بقِناع - والقِناعُ الطَّبَقُ فيه تمرٌ - ثم جاء رسولُ الله ﷺ فقال: "هل أصبتُم شيئًا، أو أُمِرَ لكم بشيء؟ " فقلنا: نعم يا رسولَ الله. قال: فبينما نحن معَ رسولِ الله ﷺ جلوسٌ، قال: فرفع الراعي غنمَه إلى المُرَاح ومعه سَخْلةٌ تَيْعرُ، فقال رسول الله ﷺ: "ما وَلَّدْتَ يا فلانُ؟ " قال: بَهْمةً، قال: "فاذبَحْ لنا مكانَها شاةً" ثم مالَ (1) عليَّ فقال: "لا تَحْسِبَنَّ - ولم يقل: لا تَحْسَبَنَّ - أنَّا من أجلِكم ذبحناها، لنا غَنَمٌ مئةٌ، ولا نريدُ أن تزيدَ، فإذا ولَّد الراعي بَهْمةً ذبَحْنا مكانَها شاةً". قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إنَّ لي امرأَةً؛ [فذَكَرَ من طُول لسانِها وبَذَائِها، فقال: "طَلِّقها" فقلت] (2): إنَّ لي منها ولدًا، قال: "فمُرْها - يقول: عِظُها - فإِنْ يَكُ فيها خيرٌ، فستفعلُ، ولا تَضرِبْ ظَعِينتَك كضربِك أَمَتَك". قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أخبِرْني عن الوضوء، قال: "أَسبِغِ الوضوءَ، وخلِّلِ الأصابعَ، وبالغ في الاستنشاقِ إلَّا أن تكون صائمًا" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7094 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

عاصم بن لقیط بن صَبِرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں بنو منتق کے وفد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں روانہ ہوا، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ کو گھر پر موجود نہ پایا البتہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی، انہوں نے ہمارے لیے ”خزِیرہ“ (گوشت کے ٹکڑوں اور آٹے سے تیار کردہ کھانا) تیار کرنے کا حکم دیا، پھر وہ ہمارے پاس ایک بڑا تھال لے کر آئیں جس میں کھجوریں تھیں، پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو دریافت فرمایا: ”کیا تم نے کچھ کھایا ہے؟ یا کیا تمہارے لیے (کھانے کا) حکم دیا گیا تھا؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ، راوی کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے آیا اور اس کے ساتھ بکری کا ایک بچہ (میمنا) منمنا رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے فلاں! (بکری نے) کیا جنا ہے؟“ اس نے عرض کی: ایک بچہ، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی جگہ ہمارے لیے ایک (بڑی) بکری ذبح کرو“، پھر آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”یہ ہرگز خیال نہ کرنا کہ ہم نے یہ بکری خاص تمہاری (آمد کی) وجہ سے ذبح کی ہے، بلکہ ہمارے پاس سو بکریاں ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ ان کی تعداد اس سے بڑھے، چنانچہ جب چرواہا کسی نئے بچے کی ولادت کی خبر لاتا ہے تو ہم اس کی جگہ (تعداد برابر رکھنے کے لیے) ایک بکری ذبح کر دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے (اور اس کی زبان درازی اور بدکلامی کا تذکرہ کیا) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو“، میں نے عرض کی: اس سے میری اولاد ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر اسے حکم دو (یعنی اسے نصیحت کرو) پس اگر اس میں کچھ خیر ہوئی تو وہ ضرور (تمہاری بات) مانے گی، اور اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارنا جیسے تم اپنی لونڈی کو مارتے ہو۔“ پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے وضو کے متعلق بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو کے اعضاء کو اچھی طرح (کامل طریقے سے) دھوؤ، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کیا کرو (یعنی اچھی طرح اوپر تک پانی پہنچاؤ) سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو (تو مبالغہ نہ کرو)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7271
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن سليم.» [ترقيم الرساله 7271] [ترقيم الشركة 7189] [ترقيم العلميه 7094]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: قال.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف ہو کر لفظ "قال" لکھا گیا ہے۔
(2) ما بين المعقوفين لم يرد في نسخنا الخطية، وأثبتناه من المطبوع، وبنحوه في مصادر التخريج.
اہم نکتہ: بریکٹ [ ] کے درمیان موجود الفاظ ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں تھے، ہم نے انہیں مطبوعہ نسخوں اور دیگر مصادرِ تخریج کی روشنی میں شامل کیا ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن سليم.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یحییٰ بن سلیم کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أبو داود (142)، وابن حبان (1054) من طرق عن يحيى بن سليم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (142) اور ابن حبان (1054) نے یحییٰ بن سلیم کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر من سنف برقم (532) و (1950).
حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے سابقہ احادیث رقم (532) اور (1950) ملاحظہ فرمائیں۔
الخَزيرة: لحم يقطَع صغارًا ويُصبّ عليه ماء كثير، فإذا نضج وضع عليه الدقيق.
اہم نکتہ: "الخزیرہ" اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں گوشت کے چھوٹے ٹکڑے کر کے زیادہ پانی میں پکایا جاتا ہے اور پکنے کے بعد اس میں آٹا شامل کر دیا جاتا ہے۔
والبَهْمة: ولد الضأن. وتَيعَرَ: أي: تصيح.
نوٹ / توضیح: "البہمہ" بھیڑ کے بچے کو کہتے ہیں، اور "تیعر" کا مطلب ہے "آواز نکالنا یا ممیا نا"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7271 سے ماخوذ ہے۔