حدیث نمبر: 7265
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن خيثمة بن عبد الرحمن، عن أبي حُذيفة، عن حُذيفة، عن النبيِّ ﷺ: أنه أُتي بطعام، فجاء أعرابيٌّ كأنما يُطرَدُ، فتناول فأخذ النبيُّ ﷺ بيده، ثم جاءت جارية كأنما تُطرَدُ، فأخذ النبيُّ ﷺ بيدها، ثم قال: "إنَّ الشيطانَ لما أعيَيتُموه، جاء بالأعرابي والجارية يَستحلُّ بهما (2) الطعامَ إذا لم يُذكَر اسمُ الله عليه، باسمِ الله كُلُوا" (3). قال الحاكم: أبو حذيفةَ هذا اسمه سلمة بن صُهيبة، وقد روى عن عائشة، والحديث صحيح، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7088 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کھانا لایا گیا، اتنے میں ایک دیہاتی (اعرابی) اس طرح تیزی سے آیا گویا اسے پیچھے سے دھکیلا جا رہا ہو، اس نے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو نبی کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ایک بچی اسی طرح تیزی سے آئی گویا اسے دھکیلا جا رہا ہو، تو نبی کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”شیطان جب تمہاری وجہ سے (کھانا کھانے سے) عاجز آ گیا تو وہ اس اعرابی اور اس بچی کو لے آیا تاکہ ان کے ذریعے اس کھانے کو (اپنے لیے) حلال کر سکے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔“
ابو حذیفہ کا نام سلمہ بن صہیبہ ہے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7265
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،سفيان: هو الثَّوري، وأبو حذيفة: هو سلمة بن صهيب، وقال: صهيبة الأرحبي.» [ترقيم الرساله 7265] [ترقيم الشركة 7183] [ترقيم العلميه 7088]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في نسخنا الخطية: به.
اہم نکتہ: ہمارے قلمی نسخوں میں یہاں لفظ "بہ" درج ہے۔
(3) إسناده صحيح. سفيان: هو الثَّوري، وأبو حذيفة: هو سلمة بن صهيب، وقال: صهيبة الأرحبي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: سفیان سے مراد "سفیان ثوری" اور ابو حذیفہ سے مراد "سلمہ بن صہیب" (یا صہیبہ) الارحبی ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23373)، ومسلم (2017) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (38 / 23373) اور مسلم (2017) نے عبد الرحمن بن مہدی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (23249)، ومسلم (2017)، وأبو داود (3766) من طريق أبي معاوية، والنسائي (6721) و (10031) من طريق عيسى بن يونس، كلاهما عن الأعمش، به. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (23249)، مسلم (2017) اور ابو داؤد (3766) نے ابو معاویہ کے طریق سے، اور نسائی (6721، 10031) نے عیسیٰ بن یونس کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں اسے اعمش سے روایت کرتے ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے (کیونکہ یہ پہلے ہی صحیحین میں موجود ہے)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7265 سے ماخوذ ہے۔