المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَأَمَّا أُخْتُهَا أُمُّ الْحَكَمِ بِنْتِ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - باب: اور ان کی بہن سیدہ اُمِّ الحکم بنت زبیر رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7098
كما حدَّثَناه إبراهيم بن عِصمةَ العَدْل، حدَّثنا السَّري بن خُزيمة، حدَّثنا موسى بن إسماعيل، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، عن عمار مولى بني هاشم، عن أُمِّ حَكِيم ابنة عبد المطلب قالت: أكلَ رسولُ الله ﷺ عندي عظمًا، فجاء بلالٌ فآذنَه بالصلاة، فصلَّى ولم يتوضَّأ (4). ذكرُ أُمامةَ بنتِ حمزةَ بن عبد المطلب ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6923 - حذفه الذهبي من التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدہ ام حکیم بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاں ہڈی والا گوشت تناول فرمایا، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ ﷺ کو نماز کی اطلاع دی، تو آپ ﷺ نے نماز ادا کی اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) صحيح لغيره، رجاله ثقات، فإن كان عمار مولى بني هاشم - وهو عمار بن أبي عمار - سمع من أم حكيم، فالإسناد صحيح، لكن لا يُعرف له رواية عنها في غير هذا الحديث، والله أعلم. وأخرجه الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" كما في "بغية الباحث" (95) - ومن طريقه أبو نعيم في "المعرفة" (7897) - عن داود بن المحبر، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (3158) عن هدبة بن خالد، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 1/ 65، والطبراني في "الكبير" 25/ (213) من طريق حجاج بن المنهال، ثلاثتهم عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: اگر یہ ثابت ہو جائے کہ عمار (مولیٰ بنی ہاشم، جو کہ عمار بن ابی عمار ہیں) نے ام حکیم سے سماع کیا ہے، تو یہ سند صحیح ہوگی، لیکن اس حدیث کے علاوہ ان کی ام حکیم سے کوئی اور روایت معروف نہیں ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث 95) میں داؤد بن المحبر سے، ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (3158) میں ہدبہ بن خالد سے، اور امام طحاوی (1/ 65) و طبرانی (25/ 213) نے حجاج بن منہال کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: اگر یہ ثابت ہو جائے کہ عمار (مولیٰ بنی ہاشم، جو کہ عمار بن ابی عمار ہیں) نے ام حکیم سے سماع کیا ہے، تو یہ سند صحیح ہوگی، لیکن اس حدیث کے علاوہ ان کی ام حکیم سے کوئی اور روایت معروف نہیں ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث 95) میں داؤد بن المحبر سے، ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (3158) میں ہدبہ بن خالد سے، اور امام طحاوی (1/ 65) و طبرانی (25/ 213) نے حجاج بن منہال کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7098 سے ماخوذ ہے۔