المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ وَفَاةِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ النَّبِيِّ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا ذکر
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا أحمد بن علي الأبَّار، حدثنا الحسن بن حمّادٍ سَجادةُ، حدثني يحيى بن سعيد الأموي، حدثنا أبو معاذ سليمان بن الأرقم الأنصاري، عن الزُّهْري، عن عُروة، عن عائشة ﵂ قالت: أهديت مارية إلى رسول الله ﷺ ومعها ابن عمّ لها، قالت: فوقع عليها وقعةً فاستمرت حاملًا، قال: فعزلها عند ابن عمها، قال: فقال أهلُ الإفكِ والزُّور: من حاجته إلى الولد ادعى ولد غيره، قال: وكانت أمَةً قليلةَ اللبن فابتيعت له ضائنةُ لَبون فكان يُغذَّى بلَبَنِها فحسن عليه لحمُه، قالت عائشة: فدُخِلَ به على النَّبيّ ﷺ ذات يوم، فقال: "كيف ترين؟ " فقلتُ: من غُذِّي بلبن الضأن ليحسُنُ لحمه، قال: "ولا الشَّبَه؟ " قالت: فحملني ما يحملُ النِّساءَ من الغَيرة أن قلتُ: ما أَرَى شَبَهًا، ثم قلت: وبلغ رسول الله ﷺ ما يقول الناسُ، فقال لعليٍّ: "خُذ هذا السيف فانطلق فاضرِبْ عُنق ابن عمّ مارية حيث وجدته" قال: فانطلق فإذا هو في حائط على نخلة يخترِفُ رُطَبًا، قال: فلما نظر إلى عليّ ومعه السيفُ استقبلَتْه رِعدة، قال: فسقطتِ الخِرقةُ، فإذا هو لم يَخلُق اللهُ ﷿ له ما للرجال، شيء ممسوحٌ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6821 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ کیا گیا اور ان کے ہمراہ ان کا ایک چچا زاد بھائی بھی تھا، وہ حاملہ ہو گئیں تو آپ ﷺ نے انہیں ان کے چچا زاد کے پاس الگ کر دیا، اس پر اہلِ افک اور اہلِ جھوٹ نے کہا کہ اولاد کی تمنا میں کسی اور کی اولاد کو اپنی کہہ لیا گیا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ماریہ کے پاس دودھ کم تھا تو ان کے لیے ایک دودھ دینے والی بھیڑ خریدی گئی جس کے دودھ سے بچے (ابراہیم) کی پرورش کی گئی اور وہ خوب صحت مند ہو گئے، ایک دن انہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں یہ بچہ کیسا لگا؟“ میں نے (غیرت کی وجہ سے) کہا: جس کی پرورش بھیڑ کے دودھ پر ہو اس کا گوشت تو اچھا ہو ہی جاتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں مشابہت نظر نہیں آتی؟“ میں نے غیرت کے زیر اثر کہہ دیا کہ مجھے کوئی مشابہت نظر نہیں آتی، پھر رسول اللہ ﷺ تک لوگوں کی باتیں پہنچیں تو آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”یہ تلوار لو اور ماریہ کے اس چچا زاد کو جہاں پاؤ اس کی گردن اڑا دو“، سیدنا علی وہاں پہنچے تو وہ ایک باغ میں کھجور کے درخت پر پھل توڑ رہا تھا، جب اس نے علی رضی اللہ عنہ کو ننگی تلوار کے ساتھ دیکھا تو وہ لرز گیا اور اس کی تہبند گر گئی، تب معلوم ہوا کہ وہ مردانہ اعضاء سے محروم (مجبوب) ہے اور اللہ نے اسے مردوں والی کوئی چیز عطا ہی نہیں کی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "سلیمان بن ارقم" کی وجہ سے انتہائی ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔ حاکم روایت نمبر (638) کے بعد پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ "سلیمان بن ارقم اس کتاب کی شرط پر نہیں ہے۔"
وعزاه الحافظ ابن حجر في ترجمة مأبور من "الإصابة" لابن شاهين، وضعفه بسليمان هذا.
فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" میں مأبور کے ترجمہ میں اسے ابن شاہین کی طرف منسوب کیا ہے اور اسی سلیمان کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
وقد روى هذا الخبر أنسُ بن مالك بسياق آخر، وهو عند مسلم، وسيأتي قريبًا برقمي (6994) و (6995)، فانظره.
نوٹ / توضیح: یہ خبر انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے دوسرے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے جو "صحیح مسلم" میں ہے اور عنقریب نمبر (6994) اور (6995) پر آئے گی، اسے دیکھ لیں۔
وفي الباب عن علي بإسناد حسن عند الطحاوي في "شرح المشكل" (4953)، وانظر تتمة تخريجه هناك.
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے طحاوی کی "شرح مشکل الآثار" (4953) میں "حسن" سند کے ساتھ روایت موجود ہے۔ اس کی مکمل تخریج وہیں دیکھیں۔
وعن عبد الله بن عمرو عند الخرائطي في "اعتلال القلوب" (737)، والطبراني في "الكبير" (14729) وغيرهما، وفي إسناده ابن لهيعة، وفي متنه نكرة.
متابعات و شواہد: اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے خرائطی کی "اعتلال القلوب" (737) اور طبرانی کی "الکبیر" (14729) وغیرہ میں روایت ہے، لیکن اس کی سند میں "ابن لہیعہ" ہے اور اس کے متن میں "نکارت" (منکر بات) ہے۔