المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ زَيْنَبَ بِنْتَ خُزَيْمَةَ الْعَامِرِيَّةَ باب: سیدہ ام المؤمنین زینب بنت خزیمہ العامریہ رضی اللہ عنہا کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6972
أخبرناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا أبو همام، حدثني ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب قال: تُوفِّيَت زينب بنت خزيمة ورسول الله ﷺ حيٌّ. قال ابنُ شِهاب: وهي زينبُ بنت خُزيمة بن الحارث بن عبد الله بن عمرو بن عبد مناف بن هلال بن عامر بن صعصعة، وهي أُمُّ المساكين، كانت تُسمَّى به في الجاهلية، تُوفِّيت بالمدينة بعد الهجرة في حياة رسول الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6805 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کی وفات رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ہی میں ہو گئی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ زینب بنت خزیمہ بن حارث بن عبداللہ بن عمرو بن عبدمناف بن ہلال بن عامر بن صعصہ ہیں، اور وہ «أُمُّ الْمَسَاكِينِ» (مسکینوں کی ماں) کے لقب سے مشہور تھیں، جاہلیت کے دور میں بھی انہیں اسی نام سے پکارا جاتا تھا، ان کی وفات ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں ہوئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات. أبو همام: هو الوليد بن شجاع بن الوليد بن قيس السكوني. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں۔
اہم نکتہ: ابو ہمام سے مراد ولید بن شجاع بن ولید بن قیس السکونی ہیں۔ پچھلی روایت بھی دیکھیں۔
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں۔
اہم نکتہ: ابو ہمام سے مراد ولید بن شجاع بن ولید بن قیس السکونی ہیں۔ پچھلی روایت بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6972 سے ماخوذ ہے۔